خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
کفالتاورضمانتکےچندمسائل
سوال:۔
میں دراصل کفالت (ضمانت) کے بارے میں معدودے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں کہ آیا مدعی کے مطالبے پر وقتِ معین پر مدعا علیہ کا حاضر کرنا ضروری ہے، اگر کفالت میں یہ شرط ہو کہ: ’’میں وقتِ مقرّرہ پر مدعا علیہ کو حاضر کردُوں گا‘‘ اگر وہ وقتِ مقرّرہ پر حاضر نہ کرے تو حاکم، ضامن کے ساتھ کیا سلوک کرنے کا مجاز ہے؟
سوال:۔
آیا ضمانت سے بری الذمہ ہونے کو کسی شرط سے متعلق کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔
اگر مدعا علیہ کے ذمہ مال کا دعویٰ ہے تو اس کے وقتِ مقرّرہ پر حاضر نہ ہونے کی صورت میں وہ مال کفیل سے وصول کیا جائے گا۔(۱) اور اگر ضمانت صرف اس شخص کو حاضر کرنے کی تھی اور کفیل اسے حاضر نہ کرسکا تو مدعی کے مطالبے پر کفیل کو نظربند کیا جاسکتا ہے۔(۲)
جواب:۔
اس میں اختلاف ہے، اَصح یہ ہے کہ جائز ہے۔(۳)
- (۱) والمکفول لہ بالخیار إن شاء طالب الذی علیہ الأصل وإں شاء طالب کفیلہ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۱۱۶)۔
- (۲) فإن شرط فی الکفالۃ بالنفس تسلیم المکفول بہ فی وقت بعینہ لزمہ إحضارہ إذا طالبہ فی ذٰلک الوقت وفاء بما التزمہ فإن احضرہ وإلّا حبسہ الحاکم لِامتناعہ عن ایفاء حقٍ مستحق علیہ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۱۱۳، کتاب الکفالۃ)۔
- (۳) قال ابن نجیم: (قولہ وبطل تعلیق البراۃ من الکفالۃ بالشرط) ۔۔۔ فعلٰی ھٰذا فکلام المؤلف محمول علٰی شرط غیر متعارف وأراد من الکفالۃ الکفالۃ بالمال إحتراز عن کفالۃ النفس فإنہ یصح تعلیق البرائۃ منھا ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۲۴۹، کتاب الکفالۃ، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔

