بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

معاہدے‌کی‌خلاف‌ورزی‌پر‌زَرِ‌ضمانت‌ضبط‌کرنے‌کا‌حق

سوال:۔

عبدالغفار نے ایک مسجد کی دُکان کرایہ پر لی، اور اقرارنامہ و کرایہ نامہ سرکاری اسٹامپ پر تحریر کیا۔ اس کی شرط نمبر۲ میں ہے کہ: ’’دُکانِ مذکور میں نے اپنے کاروبار کے لئے لی ہے، جب تک کرایہ دار خود آباد رہے گا صرف اپنا کاروبار کرے گا، اور کسی بھی شخص کو اس میں رکھنے کا یا کاروبار کرانے کا مجاز نہ ہوگا، اور نہ اس دُکان کو کسی ناجائز ذریعہ سے کسی دُوسرے شخص کو ٹھیکے یا پگڑی پر دے گا، اس قسم کی تحریری اجازت کمیٹی مذکور سے لازمی ہوگی۔‘‘ لیکن کچھ عرصہ بعد عبدالغفار بغیر کسی اطلاع کے دُکانِ مذکور کسی کو پگڑی پر دے کر غائب ہوگیا اور موجودہ شخص کہتا ہے کہ: ’’اب کرائے کی رسیدیں میرے نام بناؤ‘‘ آپ بتائیں منتظمہ کمیٹی ان سے کیا سلوک کرے؟ نیز عبدالغفار کا زَرِ ضمانت جمع ہے، جو دُکان خالی کرنے پر واپس کردیا جائے گا۔

جواب:۔

عبدالغفار کرایہ دار کو اِقرارنامے کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے تھی،(۱) اب مسجد کمیٹی چاہے تو دُوسرے کرایہ دار کی توثیق کرسکتی ہے۔ البتہ مسجد کمیٹی کو زَرِ ضمانت ضبط کرنے کا حق شرعاً نہیں ہے۔(۲)

  1. (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا ﵞ الإسراء ٣٤۔ وعن أنس رضی اللہ عنہ قلّما خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم إلّا قال: ۔۔۔ ولَا دِین لمن لَا عھد لہ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۵)۔ أیضًا: قال النووی: أجمعوا علٰی أن من وعد إنسانًا شیئًا لیس بمنھیّ عنہ فینبغی أن یفی وعدہ۔ (مرقاۃ المفاتیح ج:۸ ص:۶۱۴ آخر باب الخراج، طبع رشیدیہ)۔
  2. (۲) قال ابن عابدین: (قولہ لَا بأخذ مال فی المذھب) قال فی الفتح وعن أبی یوسف یجوز التعزیر للسلطان بأخذ المال وعندھما وباقی الأیمۃ لَا یجوز ومثلہ فی المعراج وظاھرہ أن ذٰلک روایۃ ضعیفۃ عن أبی یوسف قال فی الشرنبلالیۃ ولَا یفتی بھٰذا لما فیہ من تسلیط الظلمۃ علٰی أخذ مال الناس فیأکلونہ۔ (ردالمحتار ج:۴ ص:۶۱، مطلب فی التعزیر بأخذ المال)۔