خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
گاڑیپرقبضےسےپہلےاسکیرسیدفروختکرنا
سوال:۔
اگر کوئی شخص ایک گاڑی دس ہزار روپے میں بُک کراتا ہے، اور وہ گاڑی اس کو چھ مہینے پہلے بُک کرانی ہے، تو جب اس کی گاڑی چھ مہینے میں نکلے تو اس کو اس وقت اس میں کچھ نفع ہو تو وہ گاڑی بغیر نکالے صرف ’’رسید‘‘ فروخت کرسکتا ہے؟ یا پورے پیسے بھر کر پھر گاڑی کو فروخت کرے؟ اس طرح دُکان کا بھی، گھر کا بھی اور پلاٹ کا بھی مسئلہ بیان کریں۔
جواب:۔
جو چیز خریدی جائے جب تک اس کو وصول کرکے اس پر قبضہ نہ کرلیا جائے، اس کا آگے فروخت کرنا جائز نہیں۔ دُکان، مکان اور پلاٹ کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ جب تک ان پر قبضہ نہ ہوجائے ان کی فروخت جائز نہیں۔ گویا اُصول اور قاعدہ یہ ٹھہرا کہ قبضے سے پہلے کسی چیز کو فروخت کرنا صحیح نہیں۔(۱)
- (۱) ومن اشتریٰ شیئًا مما ینقل ویحول لم لہ یجز بیعہ حتّٰی یقبضہ ۔۔۔ ولم یقل لم یجز ان یتصرف فیہ لینفع المسئلۃ علی الْإتفاق ۔۔۔ وقال محمد: لَا یجوز بیع العقار قبل القبض اعتبار بالمنقول وصار کالْإجارۃ والْإجارۃ لَا تجوز قبل القبض إجماعًا علی الصحیح۔ (الجوھرۃ النیرۃ ص:۲۱۲ باب المرابحۃ، الترمذی ج:۱ ص:۲۳۳)۔

