بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

کسی‌چیز‌کا‌سودا‌کرکے‌قبضے‌سے‌پہلے‌اُس‌کا‌سیمپل‌دِکھاکر‌آرڈر‌لینا

سوال:۔

ہمارے ہاں کاروبار کی شکل کچھ اس طرح ہے کہ میں کسی صاحب سے کچھ خریدنا چاہتا ہوں، اس سے مال کا نمونہ لے کر کچھ دیر کا وقت لیتا ہوں، پھر اسی نمونے کو بازار میں مختلف لوگوں کو دِکھاتا ہوں اور نفع کے ساتھ قیمت بتاتا ہوں، اگر کوئی صاحب اس مال کو لینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں تو پھر میں اس مال کو خرید لیتا ہوں، یعنی جب میں لوگوں کو مال کا نمونہ دِکھاکر فروخت کر رہا ہوتا ہوں، اس وقت تک میں خود اس مال کا مالک نہیں ہوتا، جب وہ فروخت ہوجاتا ہے تو پھر خرید لیتا ہوں، کیا اس طرح کرنا صحیح ہے؟

جواب:۔

آدمی جس چیز کا مالک نہیں، اس کو آگے بیچ بھی نہیں سکتا، اس لئے اگر کسی سے آپ مال لیتے ہیں یعنی نمونے کے طور پر اور گاہک کو وہ نمونہ دِکھاتے ہیں تو نہ تو آپ نے اس چیز کو خریدا اور نہ اس چیز کو بیچا، البتہ اس کے ساتھ خریدنے کا اور بیچنے کا وعدہ کیا، لہٰذا جب تک کہ آپ چیز خرید نہیں لیتے اس شخص کے ذمے اس چیز کا دینا ضروری نہیں، اور جب تک اس کو بیچ نہیں دیتے گاہک کے ذمے اس کا خریدنا ضروری نہیں۔(۱)

  1. (۱) وشرط المعقود علیہ ۔۔۔ کونہ موجودًا مالًا متقومًا مملوکًا فی نفسہ۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۵۰۵ کتاب البیوع، مطلب شرائط البیع أنواع أربعۃ)۔ أیضًا: وأما شرطہ ۔۔۔ منھا فی المبیع وھو أن یکون موجودًا فلا ینعقد بیع المعدوم ومالہ خطر العدم کبیع نتاج النتاج والحمل کذا فی البدائع وأن یکون مملوکًا فی نفسہ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۳ ص:۲)۔