خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
فلیٹقبضےسےپہلےفروختکرنا،نیزاسرقمکواِستعمالکرنا
سوال:۔
میں نے ایک فلیٹ بُک کرایا تھا جو کہ اگلے سال ملے گا، کیا اس کو رکھوں یا بیچ دُوں؟ کیونکہ ابھی مجھے اس کے زیادہ پیسے ملیں گے، مطلب یہ کہ جتنے میں نے جمع کرائے ہیں اس سے زیادہ، کیونکہ اب اس کی قیمت بہ نسبت اس کے کہ جب یہ بُک کرایا تھا، زیادہ ہے۔
سوال:۔
اس پیسے کو جو فلیٹ بیچ کر ملے گا یعنی جمع کرانے سے زیادہ جسے ہم پریمیم کہتے ہیں، اس کو رکھ سکتا ہوں؟
سوال:۔
اس پیسے کو جو فلیٹ سے ملے گا اُدھار کے طور پر بھائیوں کو دے سکتا ہوں؟
جواب:۔
اگر پیسے ادا کرنے سے پہلے آپ کو قبضہ دیا جاچکا ہے تو بیچنا جائز ہے، ورنہ نہیں۔(۱)
جواب:۔
اُوپر کی شرط کے مطابق اگر فروخت کیا تو زائد رقم حلال ہے۔(۲)
جواب:۔
اگر رقم حلال ہے تو جس کو چاہے دیں۔
- (۱) قال الخجندی: إذا اشتریٰ منقولًا لَا یجوز بیعہ قبل القبض لَا من بائعہ ولَا من غیرہ ۔۔۔ وقال محمد: لَا یجوز بیع العقار قبل القبض اعتبارًا کالمنقول۔ أیضًا ’’ان المرابحۃ انما تصح بعد القبض ولَا تصح قبلہ۔‘‘ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۱۲، ۲۱۳، کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ، طبع مجتبائی دھلی)۔
- (۲) قال الخجندی: إذا اشتریٰ منقولًا لَا یجوز بیعہ قبل القبض لَا من بائعہ ولَا من غیرہ ۔۔۔ وقال محمد: لَا یجوز بیع العقار قبل القبض اعتبارًا کالمنقول۔ أیضًا ’’ان المرابحۃ انما تصح بعد القبض ولَا تصح قبلہ۔‘‘ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۱۲، ۲۱۳، کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ، طبع مجتبائی دھلی)۔

