بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

جو‌مال‌اپنے‌قبضے‌میں‌نہ‌ہو‌اُس‌کا‌آگے‌سودا‌کرنا

سوال:۔

ہمارا پیشہ تجارت ہے، ہمیں دُوسرے ملکوں سے کسی تاجر کا ٹیلیفون آتا ہے، جو کہتا ہے کہ ہمیں ۱۰۰ٹن چاول چاہئے، ہم اس سے اسی وقت نرخ مقرّر کرکے اور نمونے کے مطابق مال دینے کی تاریخ مقرّر کرتے ہیں، اس کے بعد ہم مارکیٹ سے مال خرید کر اُن کو دیتے ہیں، مال تو مارکیٹ میں موجود ہوتا ہے، لیکن ہمارے قبضے اور ملکیت میں نہیں ہوتا، کیا اس طرح سودا کرنا دُرست ہے؟

جواب:۔

یہ مال دینے کا وعدہ ہے، اگر وہ اس مال کو قبول کرلے تو گویا وعدے کا اِیفا ہوگیا، اور سودا صحیح ہوگیا، اور اگر قبول نہ کرے تو سودا نہیں ہوا، واللہ اعلم!