بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

رقم‌دے‌کر‌کپڑا‌بُک‌کروائے‌لیکن‌قبضہ‌نہ‌کرے،‌بلکہ‌جب‌ریٹ‌زیادہ‌ہو‌تو‌آگے‌بیچ‌دے،‌تو‌کیا‌یہ‌جائز‌ہے؟

سوال:۔

پچھلے سال میں نے ایک پاور لومز کے مالک کو کچھ رقم دی کہ آج جو کپڑے کا بھاؤ ہے اس ریٹ پر میرا اتنے میٹر کپڑا بُک کرلیں، کپڑا آپ کے پاس ہی رہے گا، جب ریٹ زیادہ ہوگا تو میں آپ سے کہہ دُوں گا کہ میرا کپڑا فروخت کردو، آپ میرا کپڑا بیچ کر رقم مجھے دے دینا۔ مالک نے کہا کہ اگر آپ کپڑا لینا چاہیں تو لے لیں، ورنہ پرچی لے جائیں، میں نے پرچی لینے کو ترجیح دی تاکہ نہ کپڑا سنبھالنا پڑے، نہ رکھوالی کرنا پڑے۔ اس نے کپڑا فروخت کرکے رقم مجھے دے دی۔

دُوسری دفعہ یہ ہوا کہ میں نے رقم دے کر پرچی لے لی، کچھ عرصے کے بعد بھاؤ گرگیا، جو قیمتِ خرید سے کم تھا، مالک نے کہا کہ اگر میں ۴ یا ۵ ماہ تک رقم نہ لوں اور وہ رقم مالک اپنے کاروبار میں لگائے رکھے تو مجھے ڈھائی روپے فی میٹر قیمتِ خرید سے زیادہ دے گا، جبکہ منڈی میں ریٹ قیمتِ خرید سے کم ہے۔ میں نے مالک سے کہا کہ تم ساڑھے تین روپے فی میٹر دو، مگر وہ ڈھائی روپے فی میٹر سے زیادہ دینے پر رضامند نہ ہوا۔

اس سے قطع نظر میں نے ایک جگہ پڑھا ہے کہ جب تک سامان پر مشتری کا قبضہ نہ ہوجائے، یا سامان متعین نہ ہوجائے تب تک وہ اُسے آگے فروخت نہیں کرسکتا۔ اگر یہ دُرست ہے تو کپڑا فروخت کرتے وقت اگر مالک سے یہ کہہ دیا جائے کہ میرا کپڑا کون سا ہے؟ مجھے دِکھادو، مالک کپڑا دِکھادے کہ یہ کپڑا ہے، اور میں کپڑا دیکھ کر اسے کہہ دُوں کہ اسے بیچ کر مجھے رقم دے دی جائے، تو کیا یہ سودا صحیح ہوجائے گا؟ اس کے علاوہ اُوپر ذِکر کی گئی سودے کی دونوں صورتوں کے بارے میں بھی بتائیں کہ وہ شرعاً جائز ہیں یا نہیں؟

جواب:۔

پہلی اور دُوسری صورت شرعاً صحیح نہیں، اور یہ جو آپ نے مسئلہ لکھا ہے کہ خریدی ہوئی چیز پر قبضہ ہوجائے، یہ مسئلہ صحیح ہے۔ لیکن جب آپ کسی سے کوئی چیز خریدیں تو وہ چیز متعین طور پر آپ کے قبضے میں آگئی، آپ اس کو اُٹھواکر چاہے اسی کے پاس امانت رکھ دیں، تو یہ صحیح ہے۔(۱)

  1. (۱) قال أبو جعفر: ولَا یجوز بیع ما لم یقبض من الأشیاء المبیعۃ إلّا العقار ۔۔۔ انما تعتبر التخلیۃ فی جواز البیع، وتقام مقام النقل فیما یتأتی فیہ القبض الحقیقی۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۳ ص:۱۱۰، ۱۱۱، کتاب البیوع)۔