خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
کیاگاڑیخریدنےکییہصورتجائزہے؟
سوال:۔
کچھ دن پہلے میں نے ایک عدد گاڑی درج ذیل طریقے سے حاصل کی تھی، آپ بغیر کسی چیز کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کا جواب تحریر فرمائیں، تاکہ ہم حکمِ خداوندی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو چھوڑنے والے نہ بنیں۔
گاڑی کی قیمت:۰۰۰،۹۵ روپے
جو رقم نقد ادا کی گئی:۰۰۰،۲۰ روپے
بقایا رقم:۰۰۰،۷۵ روپے
چونکہ جس شخص سے گاڑی لی گئی تھی اس سے گاڑی اس صورت میں لینا طے پائی تھی کہ گاڑی جتنی بھی قیمت کی ہوگی ہم گاڑی فروخت کرنے والے شخص کو ۰۰۰،۵۰ کی رقم پر ۰۰۰،۱۱ روپے مزید ادا کریں گے، لہٰذا اس صورت میں جو ان کی۰۰۰،۷۵ روپے کی رقم تھی اس پر وہ ہم سے ۵۰۰،۱۶ روپے اسی شرط کے مطابق وصول کریں گے۔ جو رقم انہوں نے گاڑی خریدنے میں صرف کی وہ۰۰۰،۷۵ روپے، واجب الادا رقم جو اَب ہم ان کو ادا کریں گے ۵۰۰،۹۱ روپے بنتی ہے، اور یہ رقم ہم ان کو ۱۵ ماہ کے عرصے میں ادا کرنے کے مجاز ہوں گے۔
جواب:۔
گاڑی کا سودا کرنے کی یہ صورت تو صحیح نہیں ہے کہ اتنے روپے پر اتنے روپے مزید لیں گے۔ گاڑی والا گاڑی خریدے، اس کے بعد وہ جتنے روپے کی چاہے بیچ دے اور اپنا نفع جتنا چاہے لگالے تو یہ صورت صحیح ہوگی۔(۱)
- (۱) طلب الزیادۃ بطریق التجارۃ غیر محرم فی الجملۃ قَالَ تَعَالَى ﵟ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَبۡتَغُواْ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكُمۡۚ ﵞ البقرة ١٩٨(تفسیر مظھری ج:۱ ص:۳۹۹، طبع اشاعت العلوم دھلی)۔

