بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

کسی‌کو‌لاکھ‌کی‌گاڑی‌دِلواکر‌ڈیڑھ‌لاکھ‌لینا

سوال:۔

میرے کچھ دوست زرعی اجناس کے علاوہ کاروں کا، ٹرکوں کا کاروبار بھی کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ کسی پارٹی کو وہ ایک کار خرید کر دیتے ہیں، اور یہ طے کرتے ہیں کہ ’’اس ایک لاکھ کی رقم پر جس سے کار دِلوائی گئی ہے، اس پر مزید ۵۰ہزار روپے زیادہ وصول کروں گا‘‘ اس کے لئے وقت کم و بیش سال یا ڈیڑھ سال مقرّر کرتے ہیں، اور میرے خیال میں جو لوگ سود کا کاروبار کرتے ہیں وہ بھی رقم پر سود اور اس کی واپسی پہلے طے کرتے ہیں۔

جواب:۔

اگر ایک لاکھ کی خود کار خرید لی اور سال ڈیڑھ سال اُدھار پر ڈیڑھ لاکھ کی کسی کو فروخت کردی تو جائز ہے۔(۱) اور اگر کار خریدنے کے خواہشمند کو ایک لاکھ روپے قرض دے دئیے اور یہ کہا کہ: ’’ڈیڑھ سال بعد ایک لاکھ پر پچاس ہزار زیادہ وصول کروں گا‘‘ تو یہ سود ہے اور قطعی حرام ہے۔(۲)

  1. (۱) لأن للأجل شبھًا بالمبیع الَا تریٰ أنہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۷۶ باب المرابحۃ والتولیۃ، طبع شرکت علمیہ)۔ وفی البحر الرائق ج:۶ ص:۱۲۴، ۱۲۵ باب المرابحۃ (طبع دار المعرفۃ): لأن للأجل شبھًا بالبیع ألَا تریٰ انہ یزاد فی الثمن لأجل الأجل ۔۔۔ الأجل فی نفسہٖ لیس بمال ولَا یقابلہ شیء حقیقۃ إذا لم یشرط زیادۃ الثمن بمقابلتہ قصدًا، ویزاد فی الثمن لأجلہ إذا ذکر الأجل بمقابلتہ زیادۃ الثمن قصدًا، فاعتبر مالًا فی المرابحۃ إحترازًا عن شبھۃ الخیانۃ ولم یعتبر ولَا فی حق الرجوع عملًا بالحقیقۃ۔ وفی المبسوط للسرخسی ج:۱۳ ص:۹ باب البیوع الفاسدۃ: وإذا عقد العاقد علٰی أنہ إلٰی أجل کذا بکذا، وبالنقد بکذا، أو قال: إلٰی شھر بکذا، أو إلٰی شھرین بکذا، فھو فاسد، لأنہ لم یعاطہ علٰی ثمن معلوم، ونھی النبی صلی اللہ علیہ وسلم من شرطین فی بیع ۔۔۔ وھٰذا إذا افترقا علٰی ھٰذا، فإن کان یتراضیان بینھما ولم یفرقا حتّٰی قاطعہ علٰی ثمن معلوم وإنما العقد علیہ فھو جائز۔
  2. (۲) عن علیّ أمیر المؤمنین مرفوعًا: کل قرض جر منفعۃ فھو ربًا۔ وقال فی الشرح: وکل قرض شرط فیہ الزیادۃ فھو حرام بلا خلاف۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۴ ص:۵۱۲، طبع إدارۃ القرآن، أیضًا فیض القدیر ج:۹ ص:۴۴۸۷، طبع بیروت)۔