بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

شوہر‌کی‌چیز‌بیوی‌بغیر‌اس‌کی‌اجازت‌کے‌نہیں‌بیچ‌سکتی

سوال:۔

ایک شخص جبکہ اپنے گھر میں موجود نہیں اور اس کی بیوی کسی وکیل کو پکڑ کر کوئی چیز وغیرہ فروخت کردے، جبکہ شوہر کو معلوم ہونے کے بعد غصہ آیا اور فوراً ایک خط انکار کا بھیجا، کیا یہ تصرف عورت کا جائز ہے؟

جواب:۔

عورت کا شوہر کی کسی چیز کو اس کی اجازت کے بغیر بیچنا صحیح نہیں، شوہر کو اختیار ہے کہ معلوم ہونے کے بعد اس سودے کو جائز رکھے یا مسترد کردے۔(۱)

  1. (۱) عن أبی اُمامۃ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی خطبتہ عام حجۃ الوداع: لَا تنفق امرأۃٌ شیئًا من بیت زوجھا إلّا بإذن زوجھا، قیل: یا رسول اللہ! ولَا لطعام؟ قال: ذلک أفضل أموالنا۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۷۲، باب صدقۃ المرأۃ من مال الزوج، ترمذی ج:۱ ص:۱۴۵)۔ أیضًا: ومن باع ملک غیرہ بغیر أمرہ، فالمالک بالخیار: إن شاء أجاز البیع وإن شاء فسخ۔ (الھدایۃ ج:۳ ص:۸۸ کتاب البیوع، باب الْإستحقاق طبع شرکت علمیہ ملتان)۔ ومن باع ملک غیرہ فللمالک أن یفسخہ ویجیزہ إن بقی العاقدان والمعقود علیہ، ولہ وبہ لو عرضا یعنی أنہ صحیح موقوف علی الْإجازۃ۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۱۶۰ باب الْإستحقاق، فصل فی بیع الفضولی، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔