بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

گاہکوں‌کی‌خرید‌و‌فروخت‌کرنا‌ناجائز‌ہے

سوال:۔

اخبار بیچنے والے اور دُودھ بیچنے والے جب اخبار اور دُودھ گھر گھر پہنچانے کا اپنا کاروبار خوب مستحکم کرلیتے ہیں تو کچھ عرصہ بعد پورے علاقے کو کسی نئے تاجر کے پاس فروخت کردیتے ہیں، گویا یہ ایک قسم کی ’’پگڑی‘‘ ہوتی ہے، کیا یہ کمائی ان کی شرعاً جائز ہے؟

جواب:۔

دریا کی مچھلیوں کا ٹھیکے پر دینا، چونگی ٹھیکے پر دینا، فقہاء نے دونوں کو ناجائز لکھا ہے۔(۱) اسی طرح گاہکوں کو بیچ دینا بھی ناجائز ہے،(۲) اور اس سے حاصل ہونے والی رقم حرام ہے۔

  1. (۱) الْإجارۃ إذا وقعت علی العین لَا یجوز فلا یصح إستئجار الأجام والحیاض لصید السمک۔ (بزازیۃ فی عالمگیری ج:۵ ص:۴۸)۔ وأیضًا: ولَا یجوز بیع السمک قبل أن یصطاد لأنہ باع ما لَا یملکہ ولَا حظیرۃ إذا کان لَا یؤخذ إلّا بصید لأنہ غیر مقدور التسلیم ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۵۵، باب البیع الفاسد)۔ بیع السمک فی البحر والبئر لَا یجوز۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۳ ص:۱۱۳، کتاب البیوع، الباب التاسع، الفصل الرابع فی بیع الحیوانات)۔
  2. (۲) ولَا یجوز الْإعتیاض عن الحقوق المجردۃ کحق الشفعۃ۔ (درمختار فی الشامی ج:۴ ص:۵۱۸، کتاب البیوع، مطلب لَا یجوز الْإعتیاض ۔۔۔إلخ۔ أیضًا: الأشباہ والنظائر ص:۲۴۹ کتاب البیوع، الفن الثانی، طبع إدارۃ القرآن)۔