بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

کسی‌کی‌مجبوری‌کی‌بنا‌پر‌زیادہ‌قیمت‌وصولنا‌بددیانتی‌ہے

سوال:۔

بعض مرتبہ ایسا گاہک سامنے آتا ہے جس کے بارے میں ہمیں یقین ہوجاتا ہے کہ یہ ہمارے یہاں سے ضرور مال خریدے گا، کبھی مارکیٹ میں کہیں مال نہ ہونے کی بنا پر، کبھی کسی اور بنا پر، ایسی صورت میں ہم اس گاہک سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مارکیٹ سے زائد پر مال فروخت کرتے ہیں، کیا اس طرح کی زیادتی جائز ہے؟

جواب:۔

شرعاً تو جتنے داموں پر بھی سودا ہوجائے جائز ہے، لیکن کسی کی مجبوری یا ناواقفیت کی وجہ سے زیادہ وصول کرنا کاروباری بددیانتی ہے۔(۱)

  1. (۱) وقد نھی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع المضطر ۔۔۔ قال الخطابی: إن عقد البیع مع الضرورۃ علٰی ھٰذا الوجہ جائز فی الحکم ولَا یفسخ إلّا أن سبیلہ فی حق الدین والمروئۃ أن لَا یباع علٰی ھٰذا الوجہ۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۴ ص:۲۰۵، باب النھی عن بیع المضطر)۔