خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
چائےمیںچنےکاچھلکاملاکربیچنےوالےکیدُکانکےملازمکاہدیہ
سوال:۔
ہمارا ایک رشتہ دار ایسی دُکان میں ملازم ہے جس میں چائے میں چنے کا چھلکا ملاکر بیچا جاتا ہے، اس شخص کی کمائی کیسی ہے؟ نیز اگر وہ ہدیہ دے تو اس کا لینا کیسا ہے؟
جواب:۔
اس کی اُتنی کمائی تو حرام ہے جس قدر اس نے ملاوَٹ کی ہے،(۱) اور اس کا ہدیہ لینا بھی جائز نہیں ہے جبکہ اس کی غالب آمدنی حرام ہو۔(۲)
- (۱) ایضاً حاشیہ گذشتہ: لَا یحل کتمان العیب فی مبیع...الخ
- (۲) إذا کان غالب مال المھدی حلالًا، فلا بأس بقبول ھدیتہ وأکل مالہ ما لم یتبین أنہ من حرام۔ (الأشباہ والنظائر ص:۱۲۵، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔ أیضًا: أھدی إلٰی رجل شیئًا أو أضافہ إن کان غالب مالہ من الحلال فلا بأس إلّا أن یعلم بأنہ حرام فإن کان الغالب ھو الحرام ینبغی أن لَا یقبل الھدیۃ ولَا یأکل الطعام۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۲، کتاب الکراھیۃ، الباب الثانی عشر فی الھدایا والضیافات، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

