بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

خالص‌دُودھ‌زیادہ‌قیمت‌میں‌اور‌پانی‌ملا‌گورنمنٹ‌ریٹ‌پر‌بیچنے‌والے‌کا‌حکم

سوال:۔

دُودھ کی قیمت حکومت نے ۹روپے کلو مقرّر کی ہے، لیکن ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں دُودھ ۱۱روپے کلو دُوں گا، کیونکہ اس میں پانی نہیں ملاتا۔ دُوسرا آدمی کہتا ہے کہ میں مقرّرہ قیمت پر دُودھ دُوں گا لیکن اس کی خالص ہونے کی گارنٹی نہیں دیتا۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں کون سچا ہے؟ ایک دُودھ میں پانی ملاتا ہے اور دُوسرا ۲روپے اِضافے سے فروخت کرتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں بلکہ دونوں خدا کے سامنے مجرم ہیں۔

جواب:۔

دُودھ میں پانی ملانے والا تو مجرم ہے ہی،(۱) جبکہ وہ خالص دُودھ کہہ کر بیچتا ہو، اور جو شخص ۱۱روپے میں خالص دُودھ دیتا ہے، اگر اس کے مصارف اُٹھانے کے بعد اس کی بچت بس بقدرِ مناسب ہی بچتی ہے، تو وہ مجرم نہیں، اور اگر ناجائز منافع خوری کا مرتکب ہے تو مجرم ہے۔(۲) آپ نے جو لکھا ہے کہ ’’آپ کے نزدیک کوئی فرق نہیں‘‘ یہ نظر کی کمزوری ہے، ورنہ دونوں کے درمیان وہی فرق ہے جو اُونٹ اور گدھے کے درمیان ہے!

  1. (۱) لَا یحل کتمان العیب فی مبیع أو ثمن لأن الغش حرام ۔۔۔ إذا باع سلعۃ معیبۃ علیہ البیان وإن لم یبین قال بعض مشائخنا یفسق وترد شھادتہ۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۵ ص:۴۷، باب خیار العیب)۔
  2. (۲) قال ابن عابدین: التسعیر حجر معنی، لأنہ منع عن البیع بزیادۃ فاحشۃ۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۴۰۱)۔