بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

خرید‌وفروخت‌میں‌جھوٹ‌بولنے‌سے‌کمائی‌حرام‌ہوجاتی‌ہے

سوال:۔

آج کل کاروباری دُنیا میں منافع حاصل کرنے کے لئے اکثر وبیشتر جھوٹ بولا جاتا ہے۔ ایک پارٹی سے طے ہوا کہ میں اس کا کیمیکل ۴۵روپے کے حساب سے فروخت کروادُوں گا، جبکہ کیمیکل میں نے ۵۰روپے کے حساب سے بیچا، اور پارٹی کو یہ بتایا کہ کیمیکل ۴۲روپے کے حساب سے فروخت ہوا، وہ اس پر رضامند ہوگئے اور میں نے ۴۲روپے کے حساب سے ان کو رقم دے دی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طرح جھوٹ بول کر جو میں نے ۸روپے کے حساب سے منافع کمایا، وہ میرے لئے حلال ہے؟ اگر حلال نہیں تو اس کو پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب:۔

جھوٹ بول کر کمائی کرنا حرام ہے، اور اس کے حلال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس پارٹی کو صحیح حقیقت بتادی جائے اور اس سے معافی مانگ لی جائے۔(۱)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: آیۃ المنافق ثلاث: إذا حدّث کذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان۔ (نسائی ج:۱ ص:۲۳۲، بخاری ج:۱ ص:۳۸۴)۔ عن أبی ذر رضی اللہ عنہ أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من ادعی ما لیس لہ فلیس منّا، ولیبتوأ مقعدہ من النار۔ (مشکوٰۃ ص:۳۲۷ باب الأقضیۃ والشھادات، طبع قدیمی)۔