خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
دُکانداروںکاہاتھمیںقرآنلےکرچیزکمپرنہبیچنےکاحلفاُٹھانا
سوال:۔
ہم کچھ دُکان دار ہاتھ میں قرآن پاک لے کر یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم سب کمپنی کی مقرّر کردہ قیمت سے کوئی سامان کم قیمت پر فروخت نہیں کریں گے، کیا یہ حلف اُٹھانا شرعی اِعتبار سے دُرست ہے؟
جواب:۔
ایسا حلف اُٹھانا دُرست نہیں، اور حلف اُٹھاکر اگر توڑ دیا ہو تو قسم کا کفارہ یعنی دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا اس کی قیمت ادا کردینا ضروری ہے۔(۱)
- (۱) ﵟ فَكَفَّٰرَتُهُۥٓ إِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنۡ أَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُونَ أَهۡلِيكُمۡ أَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ أَوۡ تَحۡرِيرُ رَقَبَةٖۖ ﵞ المائدة ٨٩۔ وکفارۃ الیمین عتق رقبۃ ۔۔۔ وإن شاء أطعم عشرۃ مساکین وتجزیٔ فی الْإطعام التملیک والتمکین فالتملیک أن یعطی کل مسکین نصف صاع من بُرّ أو دقیقہ أو سویقہ ۔۔۔ وأما ما عدا ھٰذہ الحبوب ۔۔۔ فلا یجزیہ إلّا علٰی طریق القیمۃ۔ (الجوھرۃ ج:۲ ص:۲۹۲، کتاب الأیمان)۔

