بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

زبانی‌کلامی‌خرید‌کرکے‌چیز‌کی‌زیادہ‌قیمت‌قسم‌کھاکر‌بتلانا

سوال:۔

عمر، زید، بکر ایک ہی دُکان کرتے ہیں، آپس میں باپ اور بیٹے ہیں، عمر (باپ کا نام) ایک چیز خرید کے آتا ہے ۱۴ روپے کی، وہ زید (یعنی لڑکے کو) ۱۶ روپے میں زبانی بیچ دیتا ہے، تو زید اسی چیز کو زبانی بکر (یعنی بھائی کو) ۲۰ روپے میں بیچ دیتا ہے، پھر جب کوئی گاہک وہ چیز خریدنے آتا ہے تو بکر قسم کھاکر کہتا ہے کہ: ’’میں نے یہ چیز ۲۰ روپے میں خریدی ہے‘‘ عمر یا زید، بکر سے پوچھتے ہیں کہ یہ چیز کتنے کی خریدی تھی؟ (تھوک قیمت) تو وہ قسم اُٹھاکر گاہک کو بتلادیتا ہے کہ ۲۰ روپے کی، پھر وہ چیز ۲۴ یا ۲۵ روپے میں بیچ دی جاتی ہے۔ آیا اسلام میں ایسی کوئی زبانی جمع خرچ کرکے قسمیں کھاکر تجارت کرنا صحیح ہے؟

جواب:۔

یہ محض فریب و دھوکا ہے، اور یہ تجارت دھوکے کی تجارت ہے۔(۱)

  1. (۱) باب الحلف الواجب للخدیعۃ فی البیع۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ثلاثۃ لَا یکلّمھم اللہ عزّ وجلّ ولَا ینظر إلیھم یوم القیامۃ ولَا یزکّیھم ولھم عذاب الیم ۔۔۔ ورجلٌ ساوم رجلًا علٰی سلعۃ بعد العصر فحلف لہ باللہ لقد أعطی بھا کذا وکذا فصدقہ الآخر۔ وفی روایۃ: والمنفق سلعتہ بالکذب۔ (رواہ النسائی ج:۲ ص:۲۱۲)۔ أیضًا: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: آیۃ المنافق ثلاث: إذا حدّث کذب، وإذا وعد أخلف ۔۔۔إلخ۔ (نسائی شریف ج:۲ ص:۲۳۲، بخاری ج:۱ ص:۳۸۴)۔