خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
کپڑاعیببتائےبغیرفروختکرنا
سوال:۔
میں کپڑے کا بیوپار کرتا ہوں، گاہک جب کپڑے کے متعلق معلوم کرتا ہے تو میں اکثر گول مول سا جواب دے دیتا ہوں، جبکہ میں کپڑے کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں۔ میں نے ایک صاحب سے سنا ہے کہ وہ مسلمان نہیں جو اپنی چیز بیچتے وقت اس کے عیب نہ بتائے۔ کیا مجھے کپڑے کو بیچتے وقت گاہک کے نہ پوچھنے کے باوجود بھی اس کے عیب بتانے چاہئیں یا اس کے پوچھنے پر ہی بتایا جائے؟ آپ کے جواب کا بے چینی سے انتظار رہے گا۔
جواب:۔
جی ہاں!(۱) ایک مسلمان کا طریقۂ تجارت یہی ہے کہ گاہک کو چیز کا عیب بتادے، یا کم سے کم یہ ضرور کہہ دے کہ: ’’بھائی! یہ چیز تمہارے سامنے ہے، دیکھ لو! میں اس کے کسی عیب کا ذمہ دار نہیں۔‘‘(۲) حضرت اِمام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کپڑے کی تجارت کرتے تھے، ایک بار اپنے رفیق سے یہ فرماکر کہ: ’’یہ کپڑا عیب دار ہے، گاہک کو بتادینا‘‘ خود کہیں تشریف لے گئے، ان کے ساتھی نے حضرت اِمامؒ کی غیرحاضری میں کپڑا فروخت کردیا، آپؒ واپس آئے تو دریافت فرمایا کہ اس کپڑے کا عیب بتادیا تھا؟ اس نے نفی میں جواب دیا، آپؒ نے بہت افسوس کا اظہار فرمایا اور اس دن کی ساری آمدنی صدقہ کردی۔(۳)
- (۱) (فروع) لَا یحل کتمان العیب فی مبیع أو ثمن لأن الغش حرام إلّا فی مسئلتین، قال ابن عابدین (قولہ الغش حرام) ذکر فی الخیر إذا باع سلعۃ معیبۃ علیہ البیان وإن لم یبین قال بعض مشائخنا یفسق وتردّ شھادتہ ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار ج:۵ ص:۵۷، وأیضًا: بحر الرائق ج:۶ ص:۲۵)۔
- (۲) وفی الشامیۃ: (قولہ وصح البیع بشرط البرائۃ من کل عیب) بأن قال: بعتک ھٰذا العبد علٰی إنّی بریء من کل عیب۔ (ردالمحتار ج:۵ ص:۴۲ مطلب فی البیع بشرط البرائۃ)۔
- (۳) عن علی بن حفص البزاز قال: کان حفص بن عبدالرحمٰن شریک أبی حنیفۃ (وکان أبو حنیفۃ یجھز علیہ) فبعث إلیہ أبو حنیفۃ بمتاع وأعلمہ أن فی ثوب کذا وکذا عیبًا فإذا بعتہٗ فبیّن، فباع حفص المتاع ونسی أن یبیّن (العیب) ولم یعلم ممن باعہٗ، فلما علم أبو حنیفۃ تصدق بثمن المتاع کلہ وکان ثلاثین ألف درھم وفاصل شریکہٗ۔ (عقود الجمان فی مناقب الْإمام الأعظم النعمان ص:۲۴۰، ۲۴۱)۔

