بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

کسی‌سے‌کم‌اور‌کسی‌زیادہ‌منافع‌لینا

سوال:۔

میں کپڑے کا کام کرتا ہوں، دُکان داری میں کمی بیشی کرنا پڑتی ہے، گاہک ایک دام سے سودا نہیں لیتا، بعض گاہک کہتے ہیں کہ ’’منہ مانگی تو موت نہیں ملتی، آپ ایک دام کیسے کہہ رہے ہیں؟‘‘ گاہک کو کپڑے کے دام بتائے جاتے ہیں تو کمی بیشی کے بعد گاہک خرید لیتا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ منافع کی کمی بیشی صحیح ہے؟ مثلاً گاہک کو ایک کپڑے کے ساٹھ روپے میٹر کے حساب سے قیمت بتائی، تو کوئی گاہک تو ساٹھ روپے ہی میں لے جاتا ہے، اور کوئی پچپن روپے میں لے جاتا ہے، اس طرح کسی سے کم، کسی سے زیادہ منافع لینا دُرست ہے یا نہیں؟

جواب:۔

گاہک کے ساتھ کپڑے کے بھاؤ میں کمی بیشی کرنا جائز ہے، اگر آپ ایک گاہک کو ساٹھ روپے بتاتے ہیں، اور وہ اسی قیمت پر لے جانے کے لئے راضی ہوجاتا ہے تو اِنصاف کا تقاضا یہ ہے کہ بعد میں اس کے پیسے واپس کردئیے جائیں،(۱) واللہ اعلم!

  1. (۱) وصح الحط منہ أی من الثمن وکذا من رأس المال السلم والمسلم فیہ۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۱۵۴، کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ)۔ وأیضًا: وأما إذا باع بکذا من الثمن وقبل المشتری ثم أبرأہ من الثمن أو وھبہ أو تصدق علیہ صح۔ (عالمگیری ج:۳ ص:۵، کتاب البیوع)۔