بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

مختلف‌گاہکوں‌کو‌مختلف‌قیمتوں‌پر‌مال‌فروخت‌کرنا

سوال:۔

ہمارے پاس ایک ہی قسم کا مال ہوتا ہے، جس کو ہم حالات، وقت اور گاہک کے مطابق مختلف قیمتوں پر فروخت کرتے ہیں، کیا اس طرح مختلف گاہکوں کو مختلف قیمتوں پر فروخت کرنا صحیح ہے یا ایک ہی قیمت مقرّر کی جائے؟

جواب:۔

ہر ایک کو ایک ہی دام پر دینا ضروری نہیں ہے، کسی کے ساتھ رعایت بھی کرسکتے ہیں۔(۱) لیکن ناجائز منافع کی اجازت نہیں، اور نہ ہی کسی کی مجبوری کی بنا پر زیادہ قیمت لینے کی اجازت ہے۔(۲)

  1. (۱) وصح الحط منہ ولو بعد ھلاک المبیع وقبض الثمن والزیادۃ والحط یلتحقان بأصل العقد۔ وفی الشرح: قولہ وصحح الحط منہ أی من الثمن وکذا من رأس مال السلم والمسلم فیہ کما ھو صریح کلامھم رملی علی المنح۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار ج:۵ ص:۱۵۴)۔ أیضًا: وأما إذا باع بکذا من الثمن وقبل المشتری ثم أبرأہ من الثمن أو وھبہ أو تصدق علیہ صح۔ (عالمگیری ج:۳ ص:۵، کتاب البیوع، الباب الأوّل، فی تعریف البیع)۔
  2. (۲) وقد نھی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع المضطر ۔۔۔ قال الشامی: وھو أن یضطر الرجل إلٰی طعام وشراب أو غیرھا ولَا یبیعہ البائع إلّا بأکثر من ثمنھا بکثیر وکذالک فی الشراء منہ ۔۔۔ قال الخطابی: إن عقد البیع مع الضرورۃ علٰی ھٰذا الوجہ جائز فی الحکم ولَا یفسخ إلّا أن سبیلہ فی حق الدین والمروئۃ أن لَا یباح علٰی ھٰذا الوجہ وأن لَا یقتات علیہ بمالہ ولٰـکن یعاون ویقرض ویستمھل لہ الی المیسرۃ۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۴ ص:۲۰۵، کتاب البیوع، باب النھی عن بیع المضطر، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔