بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

کاروبار‌میں‌حلال‌و‌حرام‌کا‌لحاظ‌نہ‌کرنے‌والے‌والد‌سے‌الگ‌کاروبار‌کرنا

سوال:۔

ایک شخص پابند پانچ نماز، اپنے باپ کی دُکان پر باپ کے ساتھ کام کرتا ہے، باپ اس پابندِ نماز بیٹے پر (جو شادی شدہ ہے) بے جا تنقید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ: ’’تم دُکان پر دِل لگاکر کام نہیں کرتے‘‘ باپ نہ حلال کو دیکھتا ہے اور نہ حرام کو، اب اس لڑکے کا خیال ہے کہ میں باپ سے الگ ہوکر کاروبار کروں یا نوکری وغیرہ کروں، کیا شرعاً اس کا الگ ہونا دُرست ہے یا نہیں؟

جواب:۔

اگر والد کے ساتھ اس کا نباہ نہیں ہوسکتا اور خود والد بھی علیحدہ ہونے کے لئے کہتا ہے تو شرعاً علیحدہ کام کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ اس کی خدمت، اور دیگر جائز اُمور میں ان کی اطاعت کو اپنے اُوپر لازم سمجھے، اس لئے کہ والدین کی خدمت واطاعت کے بارے میں بڑی اہمیت کے ساتھ قرآن و حدیث کی نصوص وارِد ہوئی ہیں۔(۱)

۔ وعن عبداللہ بن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: رضی الربّ فی رضی الوالد، وسخط الربّ فی سخط الوالد۔ رواہ الترمذی۔ (مشکوٰۃ ج:۲ ص:۴۱۹)۔ وعن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أصبح مطیعًا ﷲ فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من الجنّۃ وإن واحدًا فواحد، ومن أصبح عاصیًا ﷲ فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من النّار، إن کان واحدًا فواحد، قال رجل: وإن ظلماہ؟ قال: وإن ظلماہ! وإن ظلماہ! وإن ظلماہ! (مشکوٰۃ ج:۲ ص:۴۲۱، باب البر والصلۃ، الفصل الثالث)۔

  1. (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا ﵞ الإسراء ٢٣