خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
تجارتکےلئےمنافعپررقملینا
سوال:۔
ایک شخص سے میں نے تجارت کے لئے کچھ رقم مانگی، وہ شخص کہتا ہے کہ تجارت میں جو منافع ہوگا اس میں میرا کتنا حصہ ہوگا؟ میں اندازاً اتنی رقم اس کو بتاتا ہوں کہ وہ رقم دینے پر راضی ہوجاتا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ قرضہ لے کر اس طرح تجارت کرنا جس میں مجھ کو بھی معقول منافع کی توقع ہے کیا جائز ہے؟
جواب:۔
کسی سے رقم لے کر تجارت کرنا اور منافع میں سے اس کو حصہ دینا، اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ یہ بات طے کرلی جائے کہ تجارت میں جتنا نفع ہوگا اس کا اتنا فیصد (مثلاً:+) رقم والے کو ملے گا، اور اتنا کام کرنے والے کو۔(۱) اور اگر خدانخواستہ تجارت میں خسارہ ہوا تو یہ خسارہ بھی رقم والے کو برداشت کرنا پڑے گا۔(۲) یہ صورت تو جائز اور صحیح ہے۔
دُوسری صورت یہ ہے کہ تجارت میں نفع ہو یا نقصان، اور کم نفع ہو یا زیادہ، ہر صورت میں رقم والے کو ایک مقرّرہ مقدار میں منافع ملتا رہے، (مثلاً: سال، چھ مہینے کے بعد دو سو روپیہ، یا کل رقم کا دس فیصد) یہ صورت جائز نہیں۔(۳) اس لئے اگر آپ کسی سے رقم لے کر تجارت کرنا چاہتے ہیں تو پہلی صورت اختیار کریں۔ اور اگر رقم قرض مانگی تھی تو اس پر منافع لینا دینا جائز نہیں ہے۔(۴)
- (۱) ومن شرطھا أن یکون الربح بینھما مشاعًا لَا یستحق أحدھما منہ دراھم مسماۃ لأن شرط ذلک یقطع الشرکۃ لجواز أن لَا یحصل من الربح إلّا تلک الدراھم المسماۃ قال فی شرحہ إذا دفع إلٰی رجل مالًا مضاربۃ علٰی ان ما رزق اللہ فللمضارب مائۃ درھم فالمضاربۃ فاسدۃ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۳۵۰، کتاب المضاربۃ)۔ أیضًا: وشرطھا (أی المضاربۃ) أمور سبعۃ ۔۔۔ وکون نصیب کل منھما معلومًا عند العقد۔ (درمختار، کتاب المضاربۃ ج:۵ ص:۶۴۷، ۶۴۸، طبع سعید)۔
- (۲) وما ھلک من مال المضاربۃ فھو من الرِّبْح دون رأس المال؛ لأنّ الربح اسم للزیادۃ علٰی رأس المال؛ فلا بدّ من تعیین رأس المال حتّٰی یظھر الزّیادۃ وإذا زاد الھالک علی الرِّبْحِ فلا ضمان علی المضارب فیہ؛ لأنہ أمینٌ۔ (اللّباب فی شرح الکتاب ج:۲ ص:۶۴، ۶۵)۔ أیضًا: وفی الجوھرۃ: وما ھلک من مال المضاربۃ فھو من الربح دون رأس المال لأن الربح تبع لرأس المال وصرف الھلاک إلٰی ما ھو التبع أولی ۔۔۔ وإن زاد لھالک علی الربح فلا ضمان علی المضارب لأن مال المضاربۃ مقبوض علٰی وجہ الأمانۃ فصار کالودیعۃ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۹۸ کتاب المضاربۃ، طبع بمبئی)۔
- (۳) شرطھا أی المضاربۃ ۔۔۔ (وکون الربح بینھما شائعًا فلو عین قدرًا فسدت۔ (درمختار فی الشامی ج:۵ ص:۶۴۸)۔ أیضًا: ولَا یجوز الشرکۃ إذا شرط لأحدھما دراھم مسماۃ من الربح لأنہ شرط یوجب إنقطاع الشرکۃ فعساہ لَا یخرج إلّا قدر المسمّٰی لأحدھما۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۶۳۲، کتاب الشرکۃ، طبع مکتبہ شرکت علمیہ ملتان)۔
- (۴) قولہ کل قرض جرّ نفعًا حرام أی إذا کان مشروطًا ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۵ ص:۱۶۶، فصل فی القرض)۔

