خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
ایکچیزکیدوجنسوںکاباہمتبادلہکسطرحکریں؟
سوال:۔
’’مسئلہ سود‘‘ مصنفہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ مفتیٔ اعظم پاکستان، طبع مارچ ۱۹۸۶ء کے پڑھنے کا حال ہی میں اتفاق ہوا ہے، اس کتاب کے صفحہ نمبر:۸۸ اور ۸۹ پر احادیثِ پاک: ۳۱، ۳۲ اور ۳۳ نقل کی گئی ہیں، اس مضمون کی ایک حدیثِ پاک صفحہ نمبر:۱۷ پر بھی درج ہے، ان احادیثِ پاک میں چھ چیزوں کے لین دین کا ذکر کیا گیا ہے، یعنی سونا، چاندی، گیہوں، جو، چھوارے اور نمک۔
اگرچہ ان کے ساتھ اُردو ترجمہ تو لکھا ہے مگر تشریح ایسی نہیں جو عام آدمی سمجھ سکے کہ ان اشیاء کے لین دین کا کون سا طریقہ جائزہے اور کون سا ناجائز؟ ہمارے ہاں دیہاتوں میں یہ رواج چلا آرہا ہے کہ جس آدمی کا غلہ گھر کی ضرورت کے لئے کافی نہ ہو، یا اس کے گھر کا بیج خالص نہ ہو (زمین میں بونے کے قابل نہ ہو) تو وہ اپنے کسی رشتہ دار سے بقدرِ ضرورت جنس اُدھار لے لیتا ہے اور نئی فصل کے آنے پر اتنی ہی مقدار میں وہی جنس اس کے مالک کو لوٹادیتا ہے، ان احادیثِ پاک کی روشنی میں کیا یہ طریقہ دُرست ہے؟
دُوسرا اِشکال یہ ہے کہ اب ملک میں گندم کی بے شمار اقسام کاشت کی جارہی ہیں اور ان کی قیمت بھی ایک دُوسرے سے مختلف ہے۔ یہاں مثال کے طور پر میں اپنے علاقے میں کاشت کی جانے والی مختلف اقسام میں سے صرف دو قسموں کا ذکر کررہا ہوں:
ا:۔ گندم پاک ۸۱، اس کی قیمت مقامی منڈیوں میں ۷۰ روپے سے ۸۰روپے فی من ہے۔
۲:۔ گندم سی ۵۹۱، اس کی قیمت مقامی منڈیوں میں تقریباً ۱۲۰ روپے تک فی من ہے۔
پہلی قسم کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے، جبکہ دُوسری قسم کھانے میں بہ نسبت پہلی کے زیادہ لذیذ ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی قیمتوں میں ۴۰ سے ۵۰ روپے فی من تک کا فرق پایا جاتا ہے۔ اگر ان کے تبادلے کی ضرورت پیش آئے تو وہ کس طرح کیا جائے؟ قیمت کے لحاظ سے یا جنس کی مقدار کے مطابق؟ ان اِشکال کا فقہی جواب دے کر مشکور فرماویں۔
جواب:۔
غلے کا تبادلہ جب غلے کے ساتھ کیا جائے تو اگر دونوں طرف ایک ہی جنس ہو، مگر دونوں کی نوع (یعنی قسم) مختلف ہو تو دونوں کا برابر ہونا اور دست بدست لین دین ہونا شرط ہے، کمی بیشی بھی جائز نہیں،(۱) اور ایک طرف سے اُدھار بھی جائز نہیں۔(۲) آپ نے گندم کی جو دو قسمیں لکھی ہیں، ان میں ایک من گندم کے بدلے میں مثلاً: ڈیڑھ من گندم لینا جائز نہیں، بلکہ دونوں کا برابر ہونا ضروری ہے، اگر دونوں کی قیمت کم و بیش ہے تو جنس کا تبادلہ جنس کے ساتھ نہ کیا جائے، بلکہ دونوں کا الگ الگ سودا، الگ الگ قیمت کے ساتھ کیا جائے۔(۳)
- (۱) (قولہ وجیدہ کردیہ) أی جید ما جعل فیہ الربا کردیہ حتّٰی لَا یجوز بیع أحدھما بالآخر متفاضلًا لقولہ علیہ السلام: جیدھا وردیھا سواء۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۱۳۰، باب المرابحۃ والتولیۃ)۔ وفی الھدایۃ: ولَا یجوز بیع الجید بالردی مما فیہ الربا إلّا مثلًا بمثل لَاھدار التفاوت فی الوصف۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۸۰، باب الربا، أیضًا: فتاویٰ شامی ج:۵ ص:۱۷۹)۔
- (۲) (وإن وجد أحدھما) أی القدر وحدہ أو الجنس (حل الفضل وحرم النسأ) ولو مع التساوی، حتّٰی لو باع عبدًا بعبد إلٰی أجل لم یجز لوجود الجنسیۃ۔ (درمختار ص:۱۷۲)۔ أیضًا: قال أبوجعفر: ولَا یجوز بیع شیء من المکیلات بجنسہ نسیئۃ ۔۔۔ والأصل فیہ قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی حدیث عبادۃ بن الصامت: وإذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم یدًا بیدٍ، وفی بعض الألفاظ: وإذا اختلف الصنفان ۔۔۔إلخ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۳ ص:۳۲ کتاب البیوع)۔
- (۳) عن أبی سعید وأبی ھریرۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استعمل رجلًا علٰی خیبر فجائہ بتمر جنیب فقال: أکلّ تمر خیبر ھٰکذا؟ قال: لَا واللہ یا رسول اللہ! إنا لنأخذ الصاع من ھٰذا بالصاعین والصاعین بالثلاث، فقال: لَا تفعل، بع الجمیع بالدراھم ثم ابتع بالدراھم جنیبًا۔ أیضًا: وعن أبی سعید قال: جاء بلال إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم بتمر برنی فقال لہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم: من أین ھٰذا؟ قال: کان عندنا تمر ردی فبعت منہ صاعین بصاع، فقال: أوّہ عین الربٰوا، لَا تفعل ولٰـکن إذا أردت أن تشتری فبع التمر ببیع آخر ثم اشتر بہ۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۴۵، کتاب البیوع، باب الربٰوا)۔

