خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
حدیثمیںکنچھچیزوںکاتبادلےکےوقتبرابراورنقدہوناضروریہے؟
سوال:۔
میں نے ایک حدیث سنی جس میں چند اشیاء کا ذکر ہے، اس کو خریدتے وقت یعنی ضروری ہے کہ برابر برابر اس کا بدل دے اور اسی وقت یعنی ہاتھ ہی ہاتھ لوٹائے۔ پوچھنا یہ ہے کہ وہ کون سی اشیاء ہیں جن میں ان شرطوں کا لحاظ رکھنا ضروری بتلایا گیا ہے؟ اور اگر کوئی شخص ان شرطوں کا لحاظ نہیں کرتا تو وہ خرید و فروخت حرام کے درجے میں داخل ہوجاتی ہے۔ براہ مہربانی اس قسم کی کوئی حدیث بھی ذکر فرمادیں۔
جواب:۔
جو چیزیں بھی ناپ کر یا تول کر فروخت کی جاتی ہیں، جب ان کا تبادلہ ان کی جنس کے ساتھ کیا جائے تو ضروری ہے کہ دونوں چیزیں برابر، برابر ہوں، اور یہ معاملہ دست بدست کیا جائے، اس میں اُدھار بھی ناجائز ہے اور کمی بھی ناجائز ہے۔ مثلاً: گیہوں کا تبادلہ گیہوں کے ساتھ کیا جائے تو دونوں باتیں ناجائز ہوں گی، یعنی کمی بھی ناجائز اور اُدھار بھی ناجائز اور اگر گیہوں کا تبادلہ مثلاً: جو کے ساتھ کیا جائے تو کمی جائز، مگر اُدھار ناجائز ہے۔(۱) وہ حدیث یہ ہے کہ:
’’عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَلذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالفِضَّةُ بِالفِضَّةِ، وَالبُرُّ بِالبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالمِلْحُ بِالمِلْحِ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، سَوَاءً بِسَوَاءٍ، يَدًا بِيَدٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هٰذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ۔ رَوَاهُ مُسْلِم۔ ‘‘ (مشکوٰۃ ص:۲۴۴)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ چیزوں کا ذکر فرمایا، سونا، چاندی، گیہوں، جو، کھجور، نمک، اور فرمایا کہ: جب سونا، سونے کے بدلے، چاندی، چاندی کے بدلے، گیہوں، گیہوں کے بدلے، جو، جو کے بدلے، کھجور، کھجور کے بدلے، نمک، نمک کے بدلے فروخت کیا جائے تو برابر ہونا چاہئے اور ایک ہاتھ لے دُوسرے ہاتھ دے، کمی سود ہے۔(۲)
- (۱) (وعلتہ) أی علۃ تحریم الزیادۃ (القدر) المعھود بکیل أو وزن (مع الجنس فإن وجدا حرم الفضل) أی الزیادۃ (والنسأ) بالمد التأخیر فلم یجز بیع قفیز بُرٍّ بقفیز منہ متساویًا وأحدھما نسأ (وإن عدما) بکسر الدال من باب علم (حلا) کھروی بمرویین لعدم العلۃ فبقی علٰی أصل الْإباحۃ (وإن وجد أحدھما) أی القدر وحدہ أو الجنس (حل الفضل وحرم النسأ)۔ (در مختار مع ردالمحتار ج:۵ ص:۱۷۲، باب الربا، وأیضًا: فی الھدایۃ ج:۳ ص:۷۹، باب الربا)۔
- (۲) عن عبادۃ بن الصامت عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الذھب بالذھب مثلًا بمثلٍ، والتمر بالتمر مثلًا مثلٍ، والبُرّ بالبُرّ مثلًا بمثلٍ، والملح بالملح مثلًا بمثلٍ، والشعیر بالشعیر مثلًا بمثل، فمن زاد أو إزداد فقد أربٰی، بیعوا الذھب بالفضۃ کیف شئتم یدًا بیدٍ وبیعوا البُرّ بالتمر کیف شئتم یدًا بیدٍ، وبیعوا الشعیر بالتمر کیف شئتم یدًا بیدٍ۔ (رواہ الترمذی، ج:۱ ص:۲۳۵، أبواب البیوع، طبع قدیمی، وأیضًا: مسند أحمد ج:۲ ص:۲۳۲، وأیضًا: مشکوٰۃ ص:۲۴۴)۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الحنطۃ بالحنطۃ والشعیر بالشعیر والتمر بالتمر والملح بالملح کیلًا بکیلٍ وزنًا بوزنٍ، فمن زاد أو إزداد فقد أربٰی إلّا ما اختلف ألوانہ۔ (مسند أحمد ج:۲ ص:۲۳۲)۔

