بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌اور‌محنت‌مزدوری‌کے‌اُصول‌اور‌ضابطے

کیا‌اسلام‌میں‌منافع‌کی‌شرح‌کا‌تعین‌کیا‌گیا‌ہے؟

سوال:۔

میں جناب کی توجہ ایک انتہائی اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے آج کل عام لوگ بہت زیادہ پریشان ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی دُکان دار کسی چیز پر جتنا زیادہ بھی منافع وصول کرے، آیا وہ شرعی طور پر دُرست ہے؟ مثلاً ایک کپڑے کا بیوپاری دس روپے گز کے حساب سے کپڑا خریدتا ہے اور اسے تیس روپے گز میں فروخت کرتا ہے، تو کیا اس طرح اصل قیمت سے دوگنا زیادہ رقم منافع کی صورت میں وصول کرنا دُرست ہے؟ یہی مثال میکینکوں کی ہے، مثلاً اگر کوئی شخص اپنی گھڑی کسی میکینک کے پاس ٹھیک کروانے کے لئے جاتا ہے تو وہ میکینک گاہک کے انجانے پن کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس سے تیس، چالیس روپے بٹور لیتا ہے، جبکہ اصل نقص چاہے دو چار روپے کا ہو، اور گھڑی ٹھیک کرنے میں میکینک کا وقت چاہے دو چار منٹ ہی کیوں نہ صرف ہوں، تو کیا اس کی یہ کمائی جائز ہے؟ اسلام چونکہ دِینِ فطرت ہے اور اس طرح کسی کی ناجائز کھال اُتارنے کی اجازت کبھی نہیں دے گا، اس لئے براہِ کرام یہ وضاحت کردیں کہ اسلام میں منافع کی شرح کے تعین کا کیا طریقۂ کار ہے؟

جواب:۔

شریعت نے منافع کا تعین نہیں فرمایا کہ اتنا جائز ہے اور اتنا جائز نہیں، تاہم شریعت صریح ظلم کی اجازت نہیں دیتی (جسے عرفِ عام میں ’’جیب کاٹنا‘‘ کہا جاتا ہے)،(۱) جو شخص ایسی منافع خوری کا عادی ہو اس کی کمائی سے برکت اُٹھ جاتی ہے،(۲) اور حکومت کو اِختیار دیا گیا ہے کہ منصفانہ منافع کا ایک معیار مقرّر کرکے زائد منافع خوری پر پابندی عائد کردے۔(۳)

  1. (۱) قال ابن عابدین: التسعیر حج معنی، لأنہ منع عن البیع بزیادۃ فاحشۃ۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۴۰۱)۔ ومن اشتری شیئًا وأغلٰی فی ثمنہ فباعہ مرابحۃ علٰی ذالک جاز وقال أبو یوسف رحمہ اللہ تعالٰی: إذا زاد زیادۃ لَا یتغابن الناس فیھا فإنی لَا أحب أن یبیعہ مرابحۃ حتّٰی یبین۔ (عالمگیری ج:۳ ص:۱۶۱، کتاب البیوع، الباب الرابع عشر فی المرابحۃ)۔
  2. (۲) عن حکیم ابن حزام ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: البیعان بالخیار ما لم یفترقا، فإن بینا وصدقا بورک لھما فی بیعھما، وإن کذبا وکتما محق برکۃ بیعھما۔ (رواہ النسائی ج:۲ ص:۲۱۲، کتاب البیوع)۔
  3. (۳) ولَا یسعر حاکم إلّا إذا تعدّی الأرباب عن القیمۃ تعدیًا فاحشًا فیسعر بمشورۃ أھل الرأی۔ (تنویر الأبصار ج:۶ ص:۴۰۰ کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع۔‘‘ وأیضًا: واعلم أنہ لَا رد بغبن فاحش ھو ما لَا یدخل تحت تقویم المقومین فی ظاھر الروایۃ وبہ أفتی بعضھم مطلقًا کما فی القنیۃ ثم رقم وقال ویفتی بالرد رفقًا بالناس وعلیہ أکثر روایات المضاربۃ وبہ یفتی ثم رقم وقال إن غرہ أی غر المشتری البائع أو بالعکس أو غرہ الدلَال فلہ الرد وإلّا لَا وبہ أفتی صدر الْإسلام وغیرہ۔ (درمختار ج:۵ ص:۱۴۲، کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ)۔ أیضًا: وإن کان أرباب الطعام یتحکمون علی المسلمین، ویتعدون عن القیمۃ تعدیًا فاحشًا، وعجز القاضی عن صیانۃ حقوق المسلمین إلّا بالتسعیر فلا بأس بالتسعیر بمشورۃ من أھل الرأی والبصر۔ (المحیط البرھانی ج:۸ ص:۲۶۸، الفصل الخامس والعشرون)۔