خریدوفروختاورمحنتمزدوریکےاُصولاورضابطے
تجارتمیںمنافعکیشرعیحدکیاہے؟
سوال:۔
تجارت میں منافع کس قدر جائز ہے؟ اس کی حدِ شرعی متعین ہے یا نہیں؟
جواب:۔
نہیں! منافع کی حد تو مقرّر نہیں ہے،(۱) البتہ بازار کی عام اور متعارف قیمت سے زیادہ وصول کرنا اور لوگوں کی مجبوری سے غلط فائدہ اُٹھانا جائز نہیں۔(۲)
- (۱) عن أبی سعید قال: غلا السعر علٰی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقالوا لہ: لو قوّمت لنا سعرنا، قال: إنّ اللہ ھو المقوّم أو المسعّر انی لأرجوا أن افارقکم ولیس أحدکم یطلبنی بمظلمۃ فی مال ولَا نفس۔ (مسند أحمد ج:۳ ص:۸۵)۔ وعن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: غلا السعر علٰی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقالوا: یا رسول اللہ! قد غلا السعر فسعّر لنا، فقال: إن اللہ ھو المسعِّر، القابض الباسط الرازق۔ (سنن ابن ماجۃ ص:۱۵۹، ابواب التجارات)۔ أیضًا: ولَا یسعر حاکم لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: ’’لَا تسعروا فإن اللہ ھو المسعر القابض الباسط الرازق‘‘ إلّا إذا تعدی الأرباب عن القیمۃ تعدیا فاحشًا فیسعر بمشورۃ أھل الرأی۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع ج:۶ ص:۴۰۰)۔ ومن اشتریٰ شیئًا وأغلٰی فی ثمنہ فباعہ مرابحۃ علٰی ذالک جاز۔ وقال أبو یوسف رحمہ اللہ تعالٰی: إذا زاد زیادۃ لَا یتغابن الناس فیھا فإنی لَا أحب أن یبیعہ مرابحۃ حتّٰی یبین ۔۔۔ والأصل أن عرف التجار معتبر فی بیع المرابحۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۳ ص:۱۶۱، کتاب البیوع، الباب الرابع عشر فی المرابحۃ والتولیۃ، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
- (۲) عن علیّ ابن أبی طالب رضی اللہ عنہ قال: سیأتی علی الناس زمان عضوض یعض الموسر علٰی ما فی یدیہ، ولم یؤمر بذٰلک، قَالَ تَعَالَى ﵟ وَلَا تَنسَوُاْ ٱلۡفَضۡلَ بَيۡنَكُمۡۚ ﵞویباع المضطرون، قد نھی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع المضطر ۔۔۔إلخ۔ (سنن أبی داوٗد، ج:۲ ص:۱۲۴، باب بیع المضطر، طبع امدادیہ ملتان)۔ أیضًا: وفی إعلاء السُّنن ج:۱۴ ص:۲۰۵ (کتاب البیوع، باب النھی عن بیع المضطر، تحت ھٰذا الحدیث) ۔۔۔ قال الشامی: وھو أن یضطر الرجل إلٰی طعام وشراب أو غیرھا، ولَا یبیعہ البائع إلّا بأکثر من ثمنھا بکثیر، وکذٰلک فی الشراء منہ ۔۔۔ مثال البیع المضطر أی بأن اضطر إلٰی بیع شیء من مالہ ولم یرض المشتری إلّا بشرائہ بدون ثمن المثل بغبن فاحش، ومثالہ لو ألزمہ القاضی یبیع مالہ لِإیفاء دینہ أو ألزم الذمی یبیع مصحف أو عبد مسلم ونحو ذالک انتھٰی۔ (بذل المجھود ج:۴ ص:۲۵۲)۔ فیہ أیضًا ما قال الخطابی: إن عقد البیع مع الضرورۃ علٰی ھٰذا الوجہ جائز فی الحکم ولَا یفسح، إلّا أن سبیلہ فی حق الدِّین والمروئۃ ان لَا یباع علٰی ھٰذا الوجہ، وان لَا یقتات علیہ بمالہ ولٰـکن یعاون ویقرض ویستمھل لہ إلی المیسرۃ حتّٰی یکون لہ فی ذالک بلاغ اھـ۔ وأیضًا: قال ابن عابدین: التسعیر حضر معنی، لأنہ منع عن البیع بزیادۃ فاحشۃ۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۴۰۱)۔

