حقمہر
طلاقدینےکےبعدمہراوربچوںکاخرچدیناہوگا
سوال:۔
اگر زید اپنی بیوی کو طلاق نامہ ارسال کردے تو کیا شرعی حیثیت سے وہ حق مہر اور بچوں کے خرچ کا ذمہ دار ہوگا؟ جبکہ وہ بچے لینا نہیں چاہتا اور اس کے مالی وسائل بھی اتنے نہیں کہ وہ حق مہر کی کثیر رقم کے علاوہ بچوں کا خرچہ بھی یکمشت دے سکے۔ جبکہ زید کی سسرال والے طلاق نامہ ملنے پر یکمشت مہر کی رقم اور بچوں کے خرچے کا دعویٰ کریں گے، ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟
جواب:۔
مہر تو دینا ہی پڑے گا، عورت اگر چاہے تو قسطوں میں وصول کرسکتی ہے،(۱) بچوں کو خرچ اس کو ماہوار دینا ہوگا،(۲) خرچ کی مقدار صلح صفائی سے بھی طے ہوسکتی ہے اور عدالت کے ذریعہ بھی۔
- (۱) وفی الدر المختار مع رد المحتار (ج:۳ ص:۱۰۲) وتجب۔۔۔ عند وطء أو خلوۃ صحت من الزوج أو موت أحدھما أو تزوج ثانیًا فی العدۃ۔ (وفی الشامیۃ) وإذا تأکد المھر بما ذکر لَا یسقط بعد ذالک وإن کانت الفرقۃ من قبلھا، لأن البدل بعد تأکدہ لَا یحتمل السقوط إلّا بالْإبراء۔ وفی الفتاوی العالمگیریۃ: والمھر یتأکد بأحد معان ثلاثۃ: الدخول، والخلوۃ الصحیحۃ، وموت أحد الزوجین، سواء کان مسمٰی أو مھر المثل حتّٰی لَا یسقط منہ شیء بعد ذالک إلّا بالْإبراء من صاحب الحق۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۳۰۳، کتاب النکاح، باب المھر)۔
- (۲) ونفقۃ الأولَاد الصغار علی الأب لَا یشارکہ فیھا أحد۔ (ھدایۃ، باب النفقۃ ج:۲ ص:۴۴۴)۔ وفی الفتاوی الھندیۃ (ج:۱ ص:۵۶۰) کتاب الطلاق، الباب السابع عشر فی النفقات: نفقۃ الأولَاد الصغار علی الأب لَا یشارکہ فیھا أحد۔

