حقمہر
ایکلاکھمہررکھنا،نیزلڑکےکیاِجازتکےبغیرمکانلڑکیکےناملکھنا
سوال:۔
میرے نکاح کے وقت رجسٹرار صاحب نے حق مہر کے کالم میں تحریر کیا کہ مہر کی رقم شرحِ محمدی مبلغ ایک لاکھ روپیہ صرف۔ نکاح کے بعد میری اِجازت کے بغیر ایک پلاٹ جو کہ میرا ملکیتی ہے کے بارے میں تحریر کردیا گیا کہ لڑکی کو دِیا گیا، نیز مکمل نان نفقہ جہاں بھی رہے، کیا یہ تحریر کرنا میری اِجازت کے بغیر دُرست ہے؟ مقامی علماء کے مطابق کیونکہ حق مہر شرحِ محمدی بھی ہے اور ایک لاکھ روپیہ بھی لہٰذا یہ نکاح ہی نہیں ہوا۔ براہِ کرم اوّلین فرصت میں مطلع فرمائیں تاکہ ہم حرام زندگی گزارنے سے بچ سکیں۔
جواب:۔
نکاح صحیح ہے، ایک لاکھ کا مہر بھی(۱)۔۔۔ جبکہ فریقین کی رضامندی کے بعد مقرّر کیا گیا ہو۔۔۔شرعِ محمدی کے مطابق ہے۔ آپ کی اِجازت کے بغیر جو پلاٹ لڑکی کے نام لکھا گیا، اگر آپ اس کو قبول نہیں کرتے تو اس تحریر کا کوئی اِعتبار نہیں۔(۲) نان ونفقہ دونوں کی حیثیت کے مطابق لازم ہے، خواہ لکھا گیا ہو، یا نہ،(۳) واللہ اعلم!
- (۱) ومن سمّٰی مہرًا عشرۃ فما زاد فعلیہ المسمّٰی إن دخل بھا أو یموت عنھا۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۲۴)۔
- (۲) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امریء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۵۵)۔
- (۳) النفقۃ واجبۃ للزوجۃ علٰی زوجھا۔۔۔ نفقتھا وکسوتھا وسکناھا۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۴۳۷)۔

