حقمہر
یہکہہکرمہرزیادہرکھناکہلڑکیمعافکردےگی،لیکنلڑکیمعافنہکرےتوکیاحکمہے؟
سوال:۔
میرے ایک دوست کی شادی ہوئی، مہر کے مسئلے پر لڑکی کے والد نے لڑکی کا مہر دو لاکھ روپے رکھا، جبکہ لڑکے نے کہا کہ یہ میری گنجائش سے باہر ہے، میں نہیں دے سکتا، لڑکی کے والد نے کہا کہ تم ہم پر یقین کرو، ہماری لڑکی شادی کے ایک ہفتے بعد مہر معاف کردے گی۔ شادی کے ایک ہفتے بعد جب شوہر نے بیوی سے مہر معاف کرنے کو کہا تو لڑکی نے جواب دیا کہ میں بے وقوف تو نہیں جو مہر معاف کردوں۔ اس بات پر لڑکے نے اپنی بیوی کو ایک پرچے پر لکھ کر تین طلاقیں دے دیں اور کہہ دیا کہ آج سے تمہارا میرا کوئی رِشتہ نہیں، تم میری بہن کی طرح ہو۔ اور لڑکے نے عدّت کے اِخراجات ۱۲۰۰روپے لڑکی کو دے دئیے جو کہ لڑکی نے لے لئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مہر کی ادائیگی کس طرح کی جائے جبکہ لڑکے کی اتنی گنجائش نہیں ہے؟
جواب:۔
مہر کی رقم جتنی مقرّر کی گئی تھی، وہ لازم ہوگئی، وہ کس طرح ادا کرے گا؟ یہ بات وہی بتاسکتا ہے۔(۱)
- (۱) والمھر یتأکد بأحد معان ثلاثۃ: الدخول، والخلوۃ الصحیحۃ، وموت أحد الزوجین، سواء کان مسمٰی أو مھر المثل حتّٰی لَا یسقط منہ شیء بعد ذالک إلّا بالْإبراء من صاحب الحق۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۳۰۳، کتاب النکاح، الباب السابع، الفصل الثانی)۔ ومن سمّٰی مھرًا عشرۃ فما زاد علیہ المسمّٰی إن دخل بھا أو یموت عنھا۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۲۴)۔

