بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حق‌مہر

حق‌مہر‌کے‌بدلے‌دُوسری‌چیز‌دینا،‌نیز‌حق‌مہر‌کس‌کی‌ملکیت‌ہوتا‌ہے؟‌

سوال:۔

حق مہر کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور موجودہ دور میں یہ کم از کم اور زیادہ سے زیادہ کتنا طے کرنا چاہئے؟ کیونکہ میرے سسرال والے مبلغ ۵۰,۰۰۰روپے حق مہر مقرّر کرانے پر بضد ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ حق مہر شادی کی پہلی رات کو ہی بیوی سے تعلقات سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے، مگر میں حق مہر اَدا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں، تو کیا اتنی ہی مالیت کی کوئی دُوسری چیز بیوی کو حق مہر کے عوض دی جاسکتی ہے؟ مثلاً زیورات یا پلاٹ وجائیداد وغیرہ؟ اور کیا حق مہر بیوی کی ملکیت ہوتا ہے یا بیوی کے باپ کی؟ اصل حق دار کون ہے؟ اور کسے دینا چاہئے؟ اور کیا اِنتہائی مجبوری کی حالت میں بیوی کو اَدا کیا ہوا حق مہر بطورِ قرض شوہر لے کر اِستعمال کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب:۔

شرعاً کم سے کم مہر کی مقدار مقرّر ہے، دو تولے سات ماشے چاندی کی مالیت سے کم نہیں ہونا چاہئے۔(۱) زیادہ کی کوئی حد مقرّر نہیں۔ فریقین رضامندی سے جتنا مہر مقرّر کرلیں صحیح ہے، مگر دونوں کی حیثیت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ مہر اتنا مقرّر کیا جائے جس کو شوہر اَدا کرسکے۔

ت:۔ شادی کی پہلی رات مہر کا اَدا کرنا لازم نہیں، البتہ اگر مہر معجل ہو تو عورت مطالبہ کرسکتی ہے۔(۲)

ت:۔ بیوی سے مہر معاف نہیں کرانا چاہئے، بلکہ ادا کرنا چاہئے، کیونکہ یہ بیوی کا قرض ہے، اگر وہ خود خوشی سے کل یا بعض چھوڑ دے تو ٹھیک ہے۔(۳)

ت:۔ مہر بیوی کی ملکیت ہے، اس کے باپ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔(۴)

ت:۔ مہر کی مالیت کے برابر زیورات یا دُوسری چیز جس پر بیوی راضی ہو، دِی جاسکتی ہے۔(۵)

ت:۔ بیوی سے مہر بطورِ قرض لیا جاسکتا ہے۔

  1. (۱) أقل المھر عشرۃ دراھم أو ما قیمتہ عشرۃ دراھم یوم العقد لَا یوم القبض، والمعتبر وزن سبعۃ ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۲ ص:۷۹، کتاب النکاح)۔
  2. (۲) إن المعجل إذا ذکر فی العقد ملکت طلبہ ۔۔۔إلخ۔ (البزازیۃ علٰی ھامش الھندیۃ ج:۴ ص:۱۳۲)۔
  3. (۳) وإن حطت عنہ من مھرھا صح الحط لأن المھر حقھا والحط یلاقیہ حالۃ البقاء۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۲۵، أیضًا: الجوھرۃ النیرۃ ج:۲ ص:۸۱)۔
  4. (۴) عن أبی صالح قال: کان الرجل إذا زوج ابنتہ أخذ صداقھا دونھا، فنھاھم اللہ عن ذالک، ونزل: ﵟ وَءَاتُواْ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحۡلَةٗۚ ﵞ النساء ٤، رواہ ابن أبی حاتم وابن جریر۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۱۹۱، سورۃ النساء، طبع رشدیہ کوئٹہ)۔
  5. (۵) أقل المھر عشرۃ دراھم أو ما قیمتہ عشرۃ دراھم یوم العقد۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۲ ص:۷۹، کتاب النکاح)۔