بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حق‌مہر

مہر‌مرد‌کے‌ذمہ‌بیوی‌کا‌قرض‌ہوتا‌ہے

سوال:۔

اگر حق مہر طے ہوا ہو اور وہ شوہر نے ادا نہ کیا ہو اور نہ بخشایا ہو تو اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ کیونکہ ایک شخص کہتا ہے کہ مجھے شادی کئے ہوئے بھی بیس سال ہوگئے ہیں اور میں نے حق مہر کے بارے میں کبھی خیال بھی نہیں کیا ہے۔

جواب:۔

عورت کا مہر، شوہر کے ذمہ قرض ہے، خواہ شادی کو کتنے ہی سال ہوگئے ہوں وہ واجب الادا رہتا ہے،(۱) اور اگر شوہر کا انتقال ہوجائے اور اس نے مہر نہ ادا کیا تو اس کے ترکہ میں سے پہلے مہر ادا کیا جائے گا پھر ترکہ تقسیم ہوگا۔(۲)

  1. (۱) وفی الفتاوی الھندیۃ (ج:۱ ص:۳۰۳) کتاب النکاح: والمھر یتأکد بأحد معان ثلاثۃ: الدخول والخلوۃ الصحیحۃ وموت أحد الزوجین، سواء کان مسمًی أو مھر المثل حتّٰی لَا یسقط منہ شیء بعد ذالک إلّا بالْإبراء من صاحب الحق۔ أیضًا: ولما کان الصداق عطیۃ من اللہ تعالٰی علی النساء، صارت فریضۃ وحقًّا لھن علی الأزواج۔ (تفسیر مظھری ج:۲ ص:۲۲۱)۔ وفی تفسیر ابن کثیر (ج:۲ ص:۱۹۱) ولیس ینبغی لأحد بعد النبی صلی اللہ علیہ وسلم أن ینکح إمرأۃ إلّا بصداق واجب، ولَا ینبغی أن یکون تسمیۃ الصداق کذبًا بغیر حق۔
  2. (۲) إذا مات الزوجان وقد سمّٰی لھا مھرًا فلورثتھا أن یأخذوا ذٰلک من میراثہ۔ (ھدایۃ، باب المھر ج:۲ ص:۳۳۷)۔