حقمہر
کیانکاحکےلئےمہرمقرّرکرناضروریہے؟
سوال:۔
نکاح کے لئے مہر رکھنے کے بارے میں اسلامی شریعت کیا کہتی ہے؟ نکاح کے لئے مہر کا رکھنا شرعی رُو سے کیا لازم ہے؟ نکاح کے وقت مہر نہ رکھا جائے تو؟ اگر اسلامی شریعت مہر کو لازم قرار دیتی ہے تو کم از کم، اور زیادہ سے زیادہ کتنا مہر رکھا جائے؟
جواب:۔
نکاح میں مہر کا رکھنا ضروری ہے، نکاح کے وقت اگر مہر مقرّر نہیں کیا گیا تو ’’مہرِ مثل‘‘ لازم ہوگا،(۱) اور ’’مہرِ مثل‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اس خاندان کی لڑکیوں کا جتنا مہر رکھا جاتا ہے، اتنا لازم ہے۔ مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم یعنی دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی ہے۔ نکاح کے دن بازار میں اتنی چاندی کی جتنی قیمت ہو، اس سے کم مہر رکھنا جائز نہیں۔(۲) اور زیادہ مہر کی کوئی حد مقرّر نہیں کی گئی، فریقین کی باہمی رضامندی سے جس قدر مہر رکھا جائے جائز ہے۔ لیکن مہر لڑکی اور لڑکے کی حیثیت کے مطابق رکھنا چاہئے تاکہ لڑکا اسے بہ سہولت ادا کرسکے۔
- (۱) وإن تزوّجھا ولم یسم لھا مھرًا أو تزوّجھا علٰی أن لَا مھر لھا فلھا مھر مثلھا إن دخل بھا۔ (عالمگیری، الفصل الثانی فیما یتأکد بہ المھر ج:۱ ص:۳۰۴، أیضًا: الجوھرۃ النیرۃ ج:۲ ص:۸۰)۔
- (۲) قولہ ومھر مثلھا یعتبر باخواتھا وعماتھا وبنات عمھا۔۔۔ لأن المرأۃ تنسب إلٰی قبیل أبیھا وتشرف بھم۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۲ ص:۸۷، کتاب النکاح، طبع حقانیہ ملتان)۔ أقل المھر عشرۃ دراھم۔ (عالمگیری، الفصل الأوّل فی بیان أدنی مقدار المھر إلخ ج:۱ ص:۳۰۲)، أیضًا: وأقل المھر عشرۃ دراھم أو ما قیمۃ عشرۃ یوم العقد لَا یوم القبض۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۲ ص:۷۹)۔

