حقمہر
برادریکیکمیٹیسبکےلئےایکمہرمقرّرنہیںکرسکتی
سوال:۔
برادری کی ایک کمیٹی نے حق مہر کے لئے ایک رقم مقرّر کردی ہے، اس سے کم و بیش نہیں کرنے دیتے، تو کیا کمیٹی کا یہ فیصلہ دُرست ہے؟ خواہ عورت راضی ہو یا نہ ہو اسے اس مقدارِ مہر پر مجبور کرنا دُرست ہے یا نہیں؟
جواب:۔
برادری کی کمیٹی کا فیصلہ غلط ہے۔ حق مہر میں بیوی و شوہر کی حیثیت کو ملحوظ رکھیں اور بالغ عورت اور اس کے والدین کی رضامندی کے ساتھ مہر مقرّر کریں۔ مہر چونکہ بیوی کا حق ہے، اس لئے برادری کے لوگ اس کی مقدار مقرّر کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے،(۱) البتہ برادری کے لوگوں کو مناسب مہر مقرّر کرنے کی اپیل کرنی چاہئے۔(۲)
- (۱) ﵟ وَءَاتُواْ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحۡلَةٗۚ ﵞ النساء ٤، أی مھورھن سمٰی صداقًا وصدقۃ، قال الکلبی وجماعۃ ھٰذا خطاب للأولیاء۔۔۔ ولما کان الصداق عطیۃ من اللہ تعالٰی علی النساء صارت فریضۃً وحقًّا لھنّ علی الأزواج ونظرًا إلٰی ھٰذا قال قتادۃ: فریضۃ ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر المظھری ج:۲ ص:۲۲۰، ۲۲۱، سورۃ النساء:۴، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
- (۲) أیضًا وصح حطھا کلہ أو بعضہ عنہ، وفی الشامیۃ: وقید بحطھا لأن حط أبیھا غیر صحیح لو صغیرۃ، ولو کبیرۃ توقف علٰی اجازتھا۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۱۱۳، باب المھر)۔

