حقمہر
مہرنکاحکےوقتمقرّرہوتاہےاسسےپہلےلینابردہفروشیہے
سوال:۔
ہمارے قبیلے میں ایک مہر کے بجائے دو مہر لئے جاتے ہیں، ایک مہر شادی سے پہلے اور دُوسرا شادی کے بعد۔ شادی سے پہلے چالیس ہزار روپے سے لے کر ایک لاکھ روپے تک مہر لیا جاتا ہے، دُوسرا مہر وکیل جو بولے چاہے وہ ایک ہزار بولے اسے دینا پڑے گا، کیا یہ دِینِ اسلام میں جائز ہے؟
جواب:۔
شرعی مہر تو وہی ہے جو نکاح کے وقت مقرّر کیا جاتا ہے، اور وہ لڑکے اور لڑکی دونوں کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہئے۔ باقی آپ نے اپنے قبیلے کی جو رسم لکھی ہے کہ وہ چالیس ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک کی رقم وصول کرتے ہیں، یہ مہر نہیں بلکہ نہایت قبیح جاہلانہ رسم ہے،(۱) اور اس کی نوعیت بردہ فروشی کی ہے، اس رسم کی اصلاح کرنی چاہئے اور یہ کام قبیلے کے معزّز لوگ کرسکتے ہیں۔
- (۱) أخذ أھل المرأۃ شیئًا عند التسلیم فللزوج أن یستردہ، لأنہ رشوۃ۔ (الدر المختار ج:۳ ص:۱۵۶)۔

