بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حق‌مہر

بتیس۳۲‌روپے‌کو‌شرعی‌مہر‌سمجھنا‌غلط‌ہے

سوال:۔

جب محفلِ نکاح منعقد ہوتی ہے تو مولوی صاحب جو نکاح خواں ہوتے ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ حق مہر کتنا مقرّر کیا جائے؟ اس وقت حاضرین ورثاء عموماً یہ کہتے ہیں کہ مہرِ شرعی مقرّر کردو، تو مہرِ شرع محمدی بتیس روپے دس آنے دس پیسے مقرّر کیا جاتا ہے۔ کیا شرعی مہر اتنا ہی ہوتا ہے؟

جواب:۔

بتیس روپے کو شرعی مہر سمجھنا بالکل غلط ہے۔ مہر کی کم سے کم مقدار دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی ہے، اس قدر مالیت سے کم مہر رکھنا دُرست نہیں۔(۱)

  1. (۱) حدثنا القاسم بن محمد قال: سمعت جابرًا رضی اللہ عنہ یقول قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ولَا مہر أقل من عشرۃ۔ (إعلاء السنن، مبحث المھر ج:۱ ص:۸۰، أیضًا: اللباب فی شرح الکتاب ج:۲ ص: ۱۴۹)۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: شرح مختصر الطحاوی ص:۳۹۸ تا ۴۰۴، طبع دار السراج، بیروت۔