بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حق‌مہر

زیادہ‌مہر‌رکھنے‌پر‌لوگ‌بُرا‌کیوں‌مناتے‌ہیں؟‌جبکہ‌اسلام‌نے‌زیادہ‌کی‌حد‌مقرّر‌نہیں‌کی؟

سوال:۔

جناب مولانا صاحب! ۱۹؍اکتوبر ۱۹۹۵ء کو پاکستان ٹی وی۲ پر ایک پروگرام عورتوں کے حقوق سے متعلق تھا، اس میں مقرِّر نے حق مہر کے بارے میں فرمایا کہ جتنا زیادہ ہو، وہ اچھا ہے۔ قرآن کا حوالہ دیا کہ اگر بیوی کو سونے کا ڈھیر بھی دے دو تو اس میں سے واپس نہیں لینا۔ حضرت عمر فاروقؓ کا واقعہ سنایا کہ انہوں نے عورتوں کے لئے حق مہر کی حد مقرّر کرنا چاہی تو ایک عورت نے کھڑے ہوکر کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں حد مقرّر کرنے والے؟ تب حضرت عمرؓ نے کہا کہ اچھا ہوا تم نے مجھے ایک غلطی سے روکا۔ شادی میں حق مہر پر جھگڑا رہتا ہے اور شرعی حق مہر کی جب بات ہوتی ہے تو وہ کچھ اور بتاتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حق مہر اتنا ہی فرمایا ہے، آپ حق مہر کے بارے میں بتائیں کتنا ہونا چاہئے اور زیادہ دینا دُرست ہے کہ نہیں؟

جواب:۔

حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم (یعنی ۲تولے ساڑھے سات ماشے چاندی) ہے،(۱) زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں، حتیٰ کہ پوری دُنیا کی دولت بھی ایک عورت کا مہر ہوسکتی ہے۔ البتہ شریعت نے چند اُمور کی رہنمائی فرمائی ہے:

۱:۔ مہر میں تفاخر صحیح نہیں کہ محض نمائش کے لئے زیادہ سے زیادہ مقرّر کیا جائے، بلکہ جتنا مہر (اور دیگر مصارف) کم ہوں، نکاح اسی قدر موجبِ برکت ہوگا۔(۲)

۲:۔ مہر مقرّر کرتے وقت نیت اس کے ادا کرنے کی ہونی چاہئے، حدیث میں ہے کہ جو شخص عورت کا مہر اَدا کرنے کا اِرادہ نہ رکھتا ہو، وہ زانی ہے (مجمع الزوائد ص:۲۸۴، ابن ابی شیبہ ج:۴ ص:۳۶۰)۔(۳)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہراتؓ اور بناتِ طاہرات کا مہر پانچ سو درہم تھا (یعنی ۱۳۱ تولے ۳ماشے چاندی)، ایک مسلمان کو اس کی رغبت ہونی چاہئے۔(۴)

  1. (۱) أقل المھر عشرۃ دراھم ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۲۴، کتاب النکاح، باب المھر)۔ أیضًا: وفی شرح مختصر الطحاوی (ج:۴ ص:۳۹۸) قال: ولَا صَداق أقلَّ من عشرۃ دراھم لقول اللہ تعالٰی: ﵟ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمۡ أَن تَبۡتَغُواْ بِأَمۡوَٰلِكُم ﵞ النساء ٢٤۔ فأباح عقد النکاح بشرط أن یکون البدل أموالًا، وما دون العشرۃ لَا یتناولہ إسم الأموال۔۔۔ ومن جھۃ السُّنَّۃ: حدیث حرام بن عثمان عن ابنی جابر عن أبیھما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: (لَا صداق أقلَّ من عشرۃ دراھمٍ)۔۔۔ وأیضًا: روی عن علی رضی اللہ عنہ من قولہ: لَا صداق أقلَّ من عشرۃ دراھم۔
  2. (۲) عن عائشۃ قالت: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: إن أعظم النکاح برکۃ أیسرہ مؤنۃ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۶۸)۔
  3. (۳) حدثنا عبداللہ۔۔۔ قال: سعمت صھیب بن سنان یحدث قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ایما رجل اصدق إمرأۃ صداقًا واللہ أعلم انہ لَا یرید أدائھا إلیہ فغرھا باللہ واستحل فرجھا بالباطل لقی اللہ یوم یلقاہ ھو زان۔ (مسند أحمد ج:۴ ص:۳۳۲، مجمع الزوائد ص:۲۸۴، مصنَّف ابن أبی شیبۃ ج:۴ ص:۳۶۰)۔
  4. (۴) عن عمر بن الخطاب قال: ألَا لَا تغالوا صدقۃ النساء فإنھا لو کانت مکرمۃ فی الدنیا وتقوی عند اللہ لکان أولکم بھا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ما علمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکح شیئًا من نسائہ ولَا أنکح شیئًا من بناتہ علٰی أکثر من اثنتی عشرۃ أوقیۃ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷۷، کتاب النکاح، باب الصداق)۔