حقمہر
’’مہرِفاطمی‘‘کسےکہتےہیں؟نیزآپصلیاللہعلیہوسلمکیدیگرصاحبزادیوںکامہرکتناتھا؟
سوال:۔
بعض بزرگ علمائے کرام سے اپنی اولاد کا نکاح بعوض مہرِ فاطمی پڑھانا منقول ہے۔ جبکہ عام طور پر عوام میں یہ بات پھیلی ہوئی ہے کہ شرعی مہر سوا بتیس روپے ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں وضاحت مطلوب ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر کتنا مقرّر کیا گیا تھا؟ اور فی زمانہ اگر کوئی اپنی لڑکی کی شادی بعوض مہرِ فاطمی کرنا چاہے تو آج کل اس کی کیا مقدار ہوگی؟
جواب:۔
سوا بتیس روپے کو شرعی مہر سمجھنا بالکل غلط ہے، مہر کی کم سے کم مقدار دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی ہے۔(۱) اس قدر مالیت سے کم مہر رکھنا دُرست نہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر صاحبزادیوںؓ کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا، اور ایک اوقیہ چالیس دِرہم کا ہوتا ہے، تو یہ پانچ سو دِرہم ہوئے،(۲) موجودہ دور کے حساب سے ایک سو اِکتیس تولے تین ماشے چاندی یا اس کی قیمت مہرِفاطمی ہوگا۔
- (۱) قولہ وأقل المھر عشرۃ دراھم أو ما قیمۃ عشرۃ دراھم یوم العقد لَا یوم القبض ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ، کتاب النکاح ج:۲ ص:۷۹ طبع مکتبہ حقانیہ ملتان، أیضًا: ھدایۃ ج:۲ ص:۳۲۴، طبع مکتبہ شرکت علمیہ ملتان)۔
- (۲) عن أبی سلمۃ قال: سألت عائشۃ: کم کان صداق النبی صلی اللہ علیہ وسلم؟ قالت: کان صداقہ لأزواجہ ثنتی عشرۃ أوقیۃ ونشّ، قالت: أتدری ما النّشّ؟ قلت: لَا! قالت: نصف أوقیۃ فتلک خمسمائۃ درھم۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ، الفصل الأوّل ص:۲۷۷)۔

