بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حق‌مہر

شرعی‌مہر‌کا‌تعین‌کس‌طرح‌کیا‌جائے؟

سوال:۔

ایک شخص اپنی بیٹی کا نکاح ’’شرعی مہر‘‘ کے اعتبار سے کرنا چاہتا ہے، تو موجودہ دور میں اس کی کیا مقدار ہوگی؟

جواب:۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر صاحب زادیوں کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا، اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے تو پانچ سو درہم ہوئے۔(۱) موجودہ دور کے حساب سے ایک سو اکتیس تولہ تین ماشہ چاندی یا اس کی قیمت مہرِ فاطمی ہوگی۔ فقہِ حنفی کی رُو سے مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی ہے،(۲) جس کی قیمت آج کل تقریباً ۱۳۱ روپے ہے۔

  1. (۱) عن أبی سلمۃ قال: سألت عائشۃ: کم کان صداق النبی صلی اللہ علیہ وسلم؟ قالت: کان صداقہ لأزواجہ ثنتی عشرۃ أوقیۃ ونشّ، قالت: أتدری ما النّشّ؟ قلت: لَا! قالت: نصف أوقیۃ فتلک خمسمائۃ درھم۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ، الفصل الأوّل ص:۲۷۷)۔ وفی شرحہ: قال النووی رحمہ اللہ: استدل أصحابنا بھٰذا الحدیث علٰی استحباب کون المھر خمسمائۃ درھم ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ، باب الصداق ج:۳ ص:۴۴۷)۔
  2. (۲) وأقل المھر عشرۃ دراھم وزن سبعۃ مثاقیل۔۔۔ أو ما قیمۃ عشرۃ دراھم یوم العقد۔ (اللباب فی شرح الکتاب ج:۲ ص:۱۴۹)۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۳۹۸ تا ۴۰۴ کتاب النکاح، طبع دار السراج)۔