بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حق‌مہر

مہرِ‌فاطمی‌کی‌وضاحت‌اور‌ادائیگیٔ‌مہر‌میں‌کوتاہیاں

سوال:۔

اگر کوئی اعتدال کے ساتھ مہر کی رقم مقرّر کرنا چاہے تو آپ کی رائے میں کتنی رقم ہونی چاہئے؟ بعض لوگ ’’مہرِ فاطمی‘‘ یا ’’مہرِ محمدی‘‘ رکھتے ہیں، ان کی کیا تعریف ہے؟ اکثر گھروں میں دیکھا گیا ہے کہ بیوی زندہ ہو یا مرجائے اس کے مہر کی ادائیگی کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا ہے، اس کوتاہی کا ذمہ دار کون ہے؟

جواب:۔

مہر کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ طیبہ واضح ہیں، مثلاً:

’’عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَمْ كَانَ صَدَاقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا، قَالَتْ: أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: نِصْفُ أُوقِيَّةٍ، فَتِلْكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ۔‘‘(مشکوٰۃ ص:۲۷۷)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر (اپنی ازواجِ مطہراتؓ کے لئے) کتنا تھا؟ فرمایا: ساڑھے بارہ اوقیہ، اور یہ پانچ سو درہم ہوتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم، مشکوٰۃ)

’’عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا! لَا تُغَالُوا صَدَقَاتِ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مُكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا وَتَقْوًى عِنْدَ اللَّهِ لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ شَيْئًا مِنْ نِسَائِهِ وَلَا أَنْكَحَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ عَلَى أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً۔ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ وَالدَّارِمِيُّ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۲۷۷)

ترجمہ:۔ ’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: دیکھو! عورتوں کے مہر زیادہ نہ بڑھایا کرو، کیونکہ اگر یہ دُنیا میں عزّت کا موجب اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک تقویٰ کی چیز ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ اس کے مستحق تھے۔ مجھے علم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواجِ مطہرات میں سے کسی سے بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر پر نکاح کیا ہو، یا اپنی صاحب زادیوں میں سے کسی کا نکاح اس سے زیادہ مہر پر کیا ہو۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف)

بیویوں کے حقوق میں سب سے پہلا حق مہر ہے، جو شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے۔(۱) ہمارے اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم (تقریباً دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی) ہے۔(۲) اور زیادہ مہر کی کوئی مقدار مقرّر نہیں، حسبِ حیثیت جتنا مہر چاہیں رکھ سکتے ہیں، یوں تو کوئی نکاح مہر کے بغیر نہیں ہوتا، لیکن اس بارے میں بہت سی کوتاہیاں اور بے احتیاطیاں سرزد ہوتی ہیں:

۱:۔ ایک کوتاہی لڑکی کے والدین اور اس کے عزیز و اقارب کی جانب سے ہوتی ہے کہ مہر مقرّر کرتے وقت لڑکے کی حیثیت کا لحاظ نہیں رکھتے، بلکہ زیادہ سے زیادہ مقدار مقرّر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور بسااوقات اس میں تنازع اور جھگڑے کی شکل بھی پیدا ہوجاتی ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر بعض موقعوں پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اسی جھگڑے میں شادی رُک جاتی ہے۔ لوگ زیادہ مہر مقرّر کرنے کو فخر کی چیز سمجھتے ہیں، لیکن یہ جاہلیت کا فخر ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ورنہ اگر مہر کا زیادہ ہونا شرف و سیادت کی بات ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہراتؓ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادیوں کا مہر زیادہ ہوتا۔ حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کا اور کسی صاحب زادی کا مہر پانچ سو درہم سے زیادہ مقرّر نہیں کیا۔(۳) پانچ سو درہم کی ایک سو اکتیس تولے تین ماشے (- ۱۳۱) چاندی بنتی ہے۔ اگر چاندی کا بھاؤ پچاس روپے تولہ ہو تو پانچ سو درہم یعنی- ۱۳۱ تولے چاندی کے چھ ہزار پانچ سو تریسٹھ (۶۵۶۳) روپے بنتے ہیں۔ (بھاؤ کی کمی بیشی کے مطابق اس مقدار میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، بہرحال- ۱۳۱ تولے چاندی کا حساب رکھنا چاہئے)، اسی کو ’’مہرِ فاطمی‘‘ کہا جاتا ہے۔ بعض اکابر کا معمول رہا ہے کہ اگر ان سے نکاح پڑھانے کی فرمائش کی جاتی تو فرماتے کہ اگر ’’مہرِ فاطمی‘‘ رکھو تو نکاح پڑھائیں گے، ورنہ کسی اور سے پڑھوالو۔ الغرض مسلمانوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوۂ حسنہ ہی لائقِ فخر ہونا چاہئے اور مہر کی مقدار اتنی رکھنی چاہئے جتنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مقدس ازواج اور پیاری صاحب زادیوں کے لئے رکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کس کی عزّت ہے؟ گو اس سے زیادہ مہر رکھنے میں بھی کوئی گناہ نہیں، لیکن زیادتی کو فخر کی چیز سمجھنا، اس پر جھگڑے کھڑے کرنا اور باہمی رنجش کی بنیاد بنالینا جاہلیت کے جراثیم ہیں جن سے مسلمانوں کو بچنا چاہئے۔

۲:۔ ایک کوتاہی بعض دیہاتی حلقوں میں ہوتی ہے کہ سوا بتیس روپے مہر کو ’’شرعِ محمدی‘‘ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ مقدار آج کل مہر کی کم سے کم مقدار بھی نہیں بنتی، مگر لوگ اسی مقدار کو ’’شرعِ محمدی‘‘ سمجھتے ہیں جو بالکل غلط ہے۔ خدا جانے یہ غلطی کہاں سے چلی ہے؟

لیکن افسوس ہے کہ ’’میاںجی‘‘ صاحبان بھی لوگوں کو مسئلے سے آگاہ نہیں کرتے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم یعنی ۲ تولے +۷ ماشے چاندی ہے، جس کے آج کے حساب سے تقریباً ایک سو۱۳۱ اکتیس روپے بنتے ہیں، اس سے کم مہر مقرّر کرنا صحیح نہیں، اور اگر کسی نے اس سے کم مقرّر کرلیا تو دس درہم کی مالیت مہر واجب ہوگا۔(۴)

۳:۔ ایک زبردست کوتاہی یہ ہوتی ہے کہ مہر ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی، بلکہ رواج یہی بن گیا ہے کہ بیویاں حق مہر معاف کردیا کرتی ہیں۔ یہ مسئلہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ بیوی کا مہر بھی شوہر کے ذمہ اسی طرح کا ایک قرض ہے جس طرح دُوسرے قرض واجب الادا ہوتے ہیں۔ یوں تو اگر بیوی کل مہر یا اس کا کچھ حصہ شوہر کو معاف کردے تو صحیح ہے، لیکن شروع ہی سے اس کو واجب الادا نہ سمجھنا بڑی غلطی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ: ’’جو شخص نکاح کرے اور مہر ادا کرنے کی نیت نہ رکھتا ہو، وہ زانی ہے۔‘‘(۵)

۴:۔ ہمارے معاشرے میں جو اور بہت سی خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ عورتوں کے لئے مہر لینا بھی عیب سمجھا جاتا ہے، اور میراث کا حصہ لینا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے، اس لئے وہ چار و ناچار معاف کردینا ہی ضروری سمجھتی ہیں۔ اگر نہ کرتیں تو معاشرے میں ’’نکو‘‘ سمجھی جاتی ہیں۔ دِین دار طبقے کا فرض ہے کہ اس معاشرتی بُرائی کو مٹائیں اور لڑکیوں کو مہر بھی دِلوائیں اور میراث کا حصہ بھی دِلوائیں۔ اگر وہ معاف کرنا چاہیں تو ان سے کہہ دیا جائے کہ وہ اپنا حق وصول کرلیں اور کچھ عرصہ تک اپنے تصرف میں رکھنے کے بعد اگر چاہیں تو واپس لوٹادیں۔ اس سلسلے میں ان پر قطعاً جبر نہ کیا جائے۔(۶)

۵:۔ مہر کے بارے میں ایک کوتاہی یہ ہوتی ہے کہ اگر بیوی مرجائے اور اس کا مہر ادا نہ کیا ہو تو اس کو ہضم کرجاتے ہیں، حالانکہ شرعی مسئلہ یہ ہے کہ اگر خانہ آبادی سے اور میاں بیوی کی یکجائی سے پہلے بیوی کا انتقال ہوجائے تو نصف مہر واجب الادا ہوگا، اور اگر میاں بیوی کی خلوَتِ صحیحہ کے بعد اس کا انتقال ہوا ہو تو پورا مہر ادا کرنا واجب ہوگا، اور یہ مہر بھی اس کے ترکہ میں شامل ہوکر اس کے جائز ورثاء پر تقسیم ہوگا،(۷) اس کا مسئلہ علماء سے دریافت کرلینا چاہئے۔

ہمارے یہاں یہ ہوتا ہے کہ اگر لڑکی کا انتقال سسرال میں ہو تو اس کا سارا اثاثہ ان کے قبضے میں آجاتا ہے اور وہ لڑکی کے وارثوں کو کچھ نہیں دیتے، اور اگر اس کا انتقال میکے میں ہو تو وہ قابض ہوکر بیٹھ جاتے ہیں اور شوہر کا حق دینے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ حالانکہ مردے کے مال پر ناجائز قبضہ جمالینا بڑی گری ہوئی بات بھی ہے اور ناجائز مال ہمیشہ نحوست اور بے برکتی کا سبب بنتا ہے، بلکہ بعض اوقات دُوسرے مال کو بھی ساتھ لے ڈُوبتا ہے۔ اللہ تعالیٰ عقل و ایمان نصیب فرمائے اور جاہلیت کے غلط رسوم و رواج سے محفوظ رکھے۔

  1. (۱) والمھر یتأکد بأحد معان ثلاثۃ: الدخول والخلوۃ الصحیحۃ وموت أحد الزوجین سواء کان مسمی أو مھر المثل حتّٰی لَا یسقط منہ شیء بعد ذٰلک إلّا بالْإبراء۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۰۳)۔
  2. (۲) قال: ولَا صداق أقل من عشرۃ دراھم، لقول اللہ تعالٰی: ﵟ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمۡ أَن تَبۡتَغُواْ بِأَمۡوَٰلِكُم ﵞ النساء ٢٤، فأباح عقد النکاح بشرط أن یکون البدل وما دون العشرۃ لَا یتناولہ اسم الأموال۔۔۔ ومن جھۃ السُّنّۃ حدیث حرام بن عثمان عن ابنی جابر عن أبیھما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا صَدَاق أقلَّ من عشرۃ دراھم۔۔۔ وعن جابر بن عبداللہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا مھر دون عشرۃ دراھم۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۳۹۸،۳۹۹ کتاب النکاح، طبع دار السراج)۔ وأقل المھر عشرۃ دراھم ولو سمی أقل من عشرۃ فلھا العشرۃ عندنا۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۲۴)۔
  3. (۳) عن عمر بن الخطاب قال: ألَا لَا تغالوا صدقۃ النساء فإنھا لو کانت مکرمۃ فی الدنیا وتقوی عند اللہ لکان أولکم بھا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما علمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکح شیئًا من نسائہ ولَا أنکح شیئًا من بناتہ علٰی أکثر من اثنتی عشرۃ اوقیۃ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷۷، باب الصداق، کتاب النکاح)۔
  4. (۴) ولو سمی أقلّ من عشرۃ فلھا العشرۃ عندنا۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۲۴)۔ أیضًا: ومن جھۃ السُّنّۃ حدیث حرام بن عثمان عن ابنَیْ جابر عن أبیھما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا صَدَاق أقلَّ من عشرۃ دراھم۔۔۔ وأیضًا روی عن علی رضی اللہ صفحہ نمبر (۶۲۲)
  5. (۵) حدثنا عبداللہ۔۔۔ قال: سعمت صھیب بن سنان یحدث قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ایما رجل اصدق إمرأۃ صداقًا واللہ أعلم انہ لَا یرید أدائھا إلیہ فغرھا باللہ واستحل فرجھا بالباطل لقی اللہ یوم یلقاہ ھو زان۔ (مسند أحمد ج:۴ ص:۳۳۲ طبع بیروت)۔
  6. (۶) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امریء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۵۵)۔
  7. (۷) ومن سمی مہر عشرۃ فما زاد أی فأکثر فعلیہ المسمّٰی إن دخل أو خلا بھا خلوۃ صحیحۃ أو مات عنھا أو ماتت عنہ۔۔۔ وإن طلّقھا قبل الدخول والخلوۃ فلھا نصف المسمّٰی إن کان المسمّٰی عشرۃ فأکثر، وإلّا کان لھا خمسۃ کما مر۔ (اللباب فی شرح الکتاب، کتاب النکاح ج:۲ ص:۱۴۹، ۱۵۰)۔