لاپتاشوہرکاحکم
لاپتاشوہرکاحکم،نیزبیویکبتکاِنتظارکرے؟
سوال:۔
میرے شوہر آج سے ۹سال قبل ہندوستان گئے تھے، اور آج تک ان کا سوائے ایک خط کے جو انہوں نے پہنچنے کے فوراً بعد لکھا تھا، آیا ہے، اور نہ ہی انہوں نے مجھے ایک پیسہ خرچ کے لئے بھیجا، میرے ان سے چار چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ان کا بھی خرچ نہیں دیا، اب میرے کچھ ملنے والے کہتے ہیں کہ اتنا عرصہ ہوگیا اور انہوں نے کوئی خرچہ وغیرہ اور خبر تک نہیں لی، لہٰذا طلاق واقع ہوگئی اور میں دُوسری جگہ شادی کرسکتی ہوں، اب آپ بتلائیں کہ شرعی طور پر طلاق ہوگئی ہے؟ ایک صاحب جو خداترس ہیں، انہوں نے مجھے کہا کہ عدالت سے طلاق لے کر مجھ سے شادی کرلو۔ آپ بتائیں کہ عدالت سے طلاق ہوسکتی ہے؟ اور کس صورت میں؟ جبکہ میرے شوہر یہاں نہیں ہیں اور میرا خیال ہے کہ جب تک شوہر منہ سے تین بار طلاق نہ دے، طلاق نہ ہوگی۔
جواب:۔
اللہ تعالیٰ آپ کی پریشانی کو دُور فرمائے۔ جس عورت کا شوہر لاپتا ہوجائے اس کا حکم یہ ہے:
۱:۔ عورت عدالت سے رُجوع کرے اور گواہوں سے اپنے شوہر کا گم شدہ ہونا ثابت کرے۔
۲:۔ عدالت اپنے ذرائع سے اس کے شوہر کی تلاش وتفتیش کرے۔
۳:۔ اگر عدالت اس کی تلاش سے مایوس ہوجائے تو عورت کو مزید چار سال تک اِنتظار کرنے کا حکم کرے۔
۴:۔ جب یہ چار سال عدالت کے فیصلے کے بعد گزر جائیں اور اس شخص کا کوئی پتا نہ ملے تو اس کو مردہ تصوّر کیا جائے گا۔
۵:۔ یہ چار سال کی مدّت جس تاریخ کو ختم ہو، اس تاریخ سے عورت چار ماہ دس دن کی عدّت گزارنے کے بعد نکاح کرسکتی ہے۔
اگر ان پانچ نکات میں سے کوئی بات نہ پائی گئی تو عورت کو دُوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں۔(۱)
- (۱) تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: حیلہ ناجزہ ص:۶۲ تا ۶۶ واپسی مفقود کے اَحکام۔

