بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاپتا‌شوہر‌کا‌حکم

امریکا‌میں‌رہنے‌والا‌اگر‌نکاح‌کرکے‌واپس‌نہ‌آئے‌تو‌کیا‌کریں؟

سوال:۔

میرے بھائی ۱۹۸۵ء میں امریکا سے پاکستان آئے تھے، انہوں نے اپنے ایک عزیز کے بیٹے کے لئے جسے وہ بچپن میں امریکا لے گئے تھے، وہاں پڑھایا لکھایا اور جب ۱۹۸۵ء میں واپس وطن آئے تو اس لڑکے کو بھی ساتھ لائے، جو اس وقت تقریباً ۲۵،۲۶ سال کا تھا، اس لڑکے کے لئے انہوں نے میری بیٹی کا رِشتہ مانگا، ماں کے پوچھنے پر لڑکی نے اس وقت بھی اِنکار کیا تھا، لیکن پھر سمجھانے اور دباؤ پڑنے کی وجہ سے وہ خاموش رہی، میں نے بڑے بھائی کی عزّت رکھتے ہوئے اپنی بیٹی کا اس لڑکے سے نکاح کردیا، لیکن رُخصتی نہیں ہوئی، وہ تقریباً ڈیڑھ دو مہینے پاکستان میں رہے، پھر میرے بھائی اس لڑکے سمیت ہمیں یہ کہہ کر واپس امریکا چلے گئے کہ لڑکی کو پڑھاؤ اور انگریزی سکھاؤ، پھر ہم لڑکی کو امریکا بلوالیں گے۔ ان لوگوں کے جانے کے بعد اسی سال ۱۹۸۵ء میں کچھ خط میرے بھائی کے آئے اور ایک خط اس لڑکے کا بھی آیا، پھر اس کے بعد کوئی خط نہیں آیا، نہ ہی ٹیلی فون پر کوئی رابطہ ہوا۔ ہم لوگوں نے خط لکھے، لیکن کوئی جواب نہیں آیا، لیکن اب اس بات کو گیارہواں سال چل رہا ہے، وہ جیسے گئے پھر لوٹ کر نہیں آئے، نہ ہی خط، نہ کوئی ٹیلی فون آیا، ان لوگوں کا کچھ پتا نہیں، نہ ہی میرے بھائی کا، نہ ہی اس لڑکے کا کچھ پتا ہے۔ میں، میری بیٹی، بلکہ ہم سب گھر والے سخت پریشان ہیں، میری بیٹی کی زندگی کا سوال ہے، وہ اب ۲۲سال کی ہوچکی ہے، اور اس فیصلے سے سخت پریشان ہے، مجھے آپ سے اس بات کا فتویٰ چاہئے کہ کیا میری بیٹی کا نکاح ٹوٹ گیا؟ اگر ٹوٹ گیا تو کیا اس پر عدّت لازم ہے یا نہیں؟ اور اگر نکاح نہیں ٹوٹا تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ میں، میری بیٹی ہم سب کا یہی خیال اور مرضی ہے کہ لڑکی آزاد ہوجائے۔

جواب:۔

نکاح اپنے آپ تو نہیں ٹوٹ جایا کرتا، بھائی جہاں امریکا میں رہتا ہے، وہاں کے آنے جانے والے سے پتا کرے، اگر ممکن ہو تو خود جاکر پتا کرکے آئیں، اگر کسی طرح پتا نہ چلے تو عدالت میں کیس کریں، اور عدالت اپنے طور پر تحقیقات کرنے کے بعد مناسب سمجھے تو اس لڑکے کی موت کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ فیصلے کے بعد لڑکی عدّت گزارے (۱۳۰ دِن) اس کے بعد اس کا عقد دُوسری جگہ ہوسکتا ہے۔(۱)

  1. (۱) تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: حیلہ ناجزہ ص:۶۲ تا ۶۶ واپسی مفقود کے اَحکام۔