لاپتاشوہرکاحکم
لڑکیکاشوہراگرپچّیسسالسےلاپتاہوتوکیاکیاجائے؟
سوال:۔
ایک لڑکی کا نکاح ایک لڑکے کے ساتھ ہوگیا تھا، نکاح کے وقت لڑکی نابالغ تھی، ابھی رُخصتی نہیں ہوئی تھی کہ لڑکا گھر سے لاپتا ہوا، اور آج پچّیس سال مکمل ہوگئے ہیں اور لڑکے کا کوئی پتا نہیں چلا کہ زندہ ہے یا نہیں؟ ملک میں ہے یا باہر؟ اب لڑکی اپنے والد کے گھر پر قید کی زندگی گزار رہی ہے، لڑکے کے والد کا موقف یہ ہے کہ طلاق دینا میرا کام نہیں ہے اور میرا لڑکا غائب ہے، میں کیا کروں؟ اور ادھر لڑکی کا والد پریشان ہے کہ میں کیا کروں؟ لہٰذا ہماری آپ سے گزارش ہے کہ مسئلے کا حل تلاش کرکے قرآن وسنت کی روشنی میں جواب روانہ کریں۔
جواب:۔
اس لڑکی کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ وہ عدالت سے رُجوع کرے اور عدالت میں اپنے نکاح کے گواہ پیش کرے، پھر اس پر گواہ پیش کرے کہ اس کا شوہر اتنے عرصے سے لاپتا ہے، عدالت اگر محسوس کرے کہ اس کے ملنے کی توقع نہیں تو اس کی موت کا فیصلہ کردے، اس فیصلے کے بعد لڑکی اپنے شوہر کی وفات کی عدّت (۱۳۰ دِن) پورے کرنے کے بعد دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔(۱)
- (۱) حیلہ ناجزہ ص:۶۲ تا ۶۵ حکم زوجۂ مفقود۔

