بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاپتا‌شوہر‌کا‌حکم

اگر‌شوہر‌کا‌کئی‌سال‌سے‌کچھ‌پتا‌نہ‌ہو‌تو‌عورت‌کیا‌کرے؟

سوال:۔

ایک شخص جس کا نام زید ہے، اس نے قتل کردیا، پھر اس کو گرفتار کیا گیا، سزا پوری ہونے پر رہا کردیا گیا، گھر آیا، دس دن رہا، اور گیارہویں دن پھر سی آئی اے والے زید کو لے گئے، تو تین دن کے بعد سی آئی اے والوں سے معلوم کیا تو انہوں نے اپنی زبان سے کہا کہ ہم نے زید کو چھوڑ دیا ہے، لیکن ایک عینی شاہد نے گواہی دی ہے کہ اندر سے باہر آتے ہوئے تو میں نے دیکھا اور ساتھ دو آدمی اور بھی تھے، جب باہر آئے تو ایک کار آئی، اسی میں اس کو سوار کرکے لے گئے ہیں۔ اب اس دن سے آج تک تقریباً پانچ سال کا عرصہ ہوچکا ہے، لیکن زید کا پتا معلوم نہ ہوسکا کہ زندہ ہے کہ نہیں؟ جبکہ اس کی بیوی اور دو بچے بھی ہیں، اب اس کی بیوی اپنے خرچے سے تنگ ہے، اس کو خرچہ دینے کے لئے کوئی تیار نہیں، پانچ سال اپنی محنت ومزدوری سے اپنے بچوں کو پالا، لیکن اب وہ تنگ ہوکر دُوسری جگہ شادی کرنے کی خواہش مند ہے، لہٰذا قرآن وسنت کی روشنی میں اگر کوئی گنجائش ہو تو جواب عنایت فرماکر ممنون فرماویں۔

جواب:۔

گمشدہ شخص کی بیوی عدالت میں اِستغاثہ کرے، پہلے اپنے نکاح کا ثبوت پیش کرے اور پھر شوہر کی گمشدگی کا، عدالت اسے چار سال تک اِنتظار کرنے کی مہلت دے اور اسی عرصے میں اس کے شوہر کی تفتیش کرائے، اگر اس عرصے میں نہ ملے تو عدالت اس کی وفات کا فیصلہ کردے، (اور اگر عدالت محسوس کرے کہ چار سال تک مزید اِنتظار کی ضرورت نہ ہو تو فی الفور بھی اس کی موت کا فیصلہ کرسکتی ہے)۔ عدالت سے شوہر کی وفات کا فیصلہ لینے کے بعد عورت شوہر کی عدّتِ وفات (چار مہینے دس دِن) گزارے، عدّت ختم ہونے کے بعد دُوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت ہوگی۔(۱)

  1. (۱) حیلہ ناجزہ ص:۶۲ تا ۶۵ حکم زوجۂ مفقود۔