بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاپتا‌شوہر‌کا‌حکم

شوہر‌اگر‌لاپتا‌ہوجائے‌اور‌چار‌پانچ‌سال‌کے‌بعد‌عورت‌دُوسرے‌سے‌شادی‌کرلے‌تو‌کیا‌حکم‌ہے؟

سوال:۔

مسئلہ یہ ہے کہ میں اپنے شوہر اور چار بچوں کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔ میرا شوہر سے جھگڑا ہوگیا اور وہ ہم سب کو چھوڑ کر چلا گیا، تقریباً چار یا پانچ سال تک کوئی خبر نہیں لی، اور نہ ہی بچوں کے بارے میں پوچھا۔ اس حالت کو دیکھتے ہوئے میں نے دُوسرا نکاح ایک مرد سے کرلیا، اور دُوسرے شوہر سے اب تک پانچ بچے ہیں۔ میں نے یہ شادی یا نکاح بغیر طلاق یا خلع لئے کرلیا تھا، کیا ایسا کرنا گناہ ہے؟ کیا یہ فعل بدکاری، حرام کاری یا زِناکاری ہے؟

جواب:۔

اگر شوہر لاپتا ہوجائے تو عدالت میں اس کی گمشدگی ثابت کرکے عدالت سے اس کی موت کا فیصلہ لیا جاتا ہے، (جس کی خاص شرطیں ہیں)۔ عدالت جب فیصلہ کردے کہ فلاں شخص (یعنی شوہر) مرگیا ہے، تو عورت اپنے شوہر کی موت کی عدّت (سوا چار مہینے) گزارے، اور جب وہ عدّت سے فارغ ہوجائے تب اس کو دُوسری جگہ نکاح کرنے کا حق ہے۔(۱) آپ نے جو دُوسرا نکاح کیا، یہ نکاح نہیں ہوا، بلکہ خالص زِنا ہے، اس لئے توبہ کریں اور اس شخص سے فوراً علیحدگی اِختیار کرلیں۔(۲)

  1. (۱) حیلہ ناجزہ ص:۶۲ تا ۶۶، حکم زوجۂ مفقود، طبع دار الاشاعت پر تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
  2. (۲) فصل: ومنھا (أی المحرمات) أن لَا تکون منکوحۃ الغیر، لقولہ تعالٰی:ﵟ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ ﵞ، معطوفًا علٰی قولہ عزّ وجلّ: ﵟ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ ﵞإلٰی قولہ ﵟ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ ﵞ، وھن ذوات الأزواج وسواء کان زوجھا مسلمًا أو کافرًا۔ (البدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۶۸ کتاب النکاح)۔