بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاپتا‌شوہر‌کا‌حکم

لاپتا‌شوہر‌کا‌حکم

سوال:۔

میرے بڑے بھائی کو لاپتا ہوئے تقریباً چار سال کا عرصہ گزرچکا ہے، جس کی وجہ سے ہم کافی پریشان ہیں، جبکہ بھابھی چار سال سے میکے میں ہیں، کیا ان چار سالوں میں نکاح ٹوٹ گیا ہے؟ اور کیا میری بھابھی دُوسرا نکاح کرسکتی ہیں؟

جواب:۔

اس سے نکاح نہیں ٹوٹا، نہ آپ کی بھابھی دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔ اس کی تدبیر یہ ہے کہ عورت مسلمان عدالت سے رُجوع کرے، اپنے نکاح کا اور شوہر کی گمشدگی کا ثبوت شہادت سے پیش کرے۔ عدالت اس کو چار سال تک اِنتظار کرنے کی مہلت دے، اور اس عرصے میں عدالت اس کے شوہر کی تلاش کرائے، اگر اس عرصے میں اس کا پتا نہ چل سکے تو عدالت اس کی موت کا فیصلہ کردے گی۔ اس فیصلے کے بعد عورت اپنے شوہر کی وفات کی عدّت (۱۳۰ دِن) گزارے، عدّت ختم ہونے کے بعد عورت دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

نوٹ:۔عدالت اگر محسوس کرے کہ چار سال مزید اِنتظار کرنے کی ضرورت نہیں، تو انتظار کے لئے اس سے کم مدّت بھی مقرّر کرسکتی ہے۔ بہرحال جب تک عدالت اس کے شوہر کی موت کا فیصلہ نہیں کردیتی، اور اس فیصلے کے بعد عورت ۱۳۰دِن کی عدّت نہیں گزار لیتی، تب تک دُوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی۔(۱)

  1. (۱) قولہ خلافًا لمالک فإن عندہ تعتد زوجۃ المفقود عدۃ الوفاۃ بعد مضٰی أربع سنین۔۔۔ وقد قال فی البزازیۃ الفتویٰ فی زماننا علٰی قول مالک وقال الزاھدی کان بعض أصحابنا یفتون بہ للضرورۃ۔ (شامی ج:۴ ص:۲۹۵)۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں: حیلہ ناجزہ ص:۶۲ تا ۶۶ حکم زوجۂ مفقود۔