لاپتاشوہرکاحکم
لاپتاشوہرکیبیویکادُوسرانکاحغلطاورناجائزہے
سوال:۔
میرے ایک دوست نے شادی کی اور شادی کے بعد وہ بیرون ملک چلے گئے، تقریباً چار سال سے نہ ان کا کوئی خط آیا ہے اور نہ ہی ان کا کوئی حال احوال کچھ پتہ چلتا ہے کہ زندہ ہیں یا کہ نہیں۔ ادھر اس کی بیوی کی ماں اور بھائیوں نے اس کی دُوسری شادی کرادی اور اس دوران اس کے دو بچے بھی ہیں، پہلے والے شوہر کے ماں باپ نے بھی بیٹے کو مردہ سمجھ کر اس کے ایصالِ ثواب کے لئے قرآن خوانی کی۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ لڑکا بیرون ملک فوج میں ہے تاہم آج تک نہ اس کا کوئی خط آیا اور نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی ایسی چیز آئی جس سے اس کی موت کا پتہ چل سکے۔
سوال:۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ یہ شادی ہوسکتی ہے؟
سوال:۔
۲: لڑکی کا پہلا خاوند آجائے تو لڑکی کو کون سے شوہر کے پاس رہنا چاہئے؟
سوال:۔
۳: کیا اس طرح کرنے سے پہلا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟
سوال:۔
۴: اگر ٹوٹ جاتا ہے تو عدّت کتنے دن بیٹھ جانا چاہئے؟
جواب:۔
نہیں۔(۱)
جواب:۔
وہ پہلے شوہر کے نکاح میں ہے، دُوسرا نکاح اس کا ہوا ہی نہیں۔
جواب:۔
پہلا نکاح باقی ہے، وہ نہیں ٹوٹا۔
جواب:۔
جب نکاح باقی ہے تو عدّت کا کیا سوال؟
مسئلہ:۔ جو شخص لاپتہ ہو اس کی موت کا فیصلہ عدالت کرسکتی ہے، محض عورت کا یا عورت کے گھر والوں کا یہ سوچ لینا کہ وہ مرگیا ہوگا اس سے اس شخص کی موت ثابت نہیں ہوگی، اس لئے یہ عورت بدستور اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں ہے، اس کا دُوسرا نکاح غلط اور ناجائز ہے، ان دونوں کو فوراً علیحدگی اختیار کرلینی چاہئے۔ عورت کو لازم ہے کہ عدالت میں پہلے شوہر سے اپنا نکاح ثابت کرے، اور پھر یہ ثابت کرے کہ اتنے عرصے سے اس کا شوہر لاپتہ ہے، اس کے بعد عدالت اس کو چار سال انتظار کرنے کی تلقین کرے اور اس عرصے میں عدالت سرکاری ذرائع سے اس کے شوہر کو تلاش کرائے، اگر اس عرصے میں شوہر مل جائے تو ٹھیک، ورنہ عدالت اس کی موت کا فیصلہ کرے، شوہر کی موت کے فیصلے کے دن سے عورت چار مہینے دس دن (۱۳۰ دن) شوہر کی موت کی عدّت گزارے، عدّت ختم ہونے کے بعد عورت دُوسرا نکاح کرسکتی ہے۔(۲)
- (۱) أما منکوحۃ الغیر۔۔۔ لم یقل أحد بجوازہ فلم ینعقد أصلًا۔ (شامی ج:۳ ص:۱۳۲)۔ أیضًا: لَا یجوز للرجل أن یتزوّج زوجۃ غیرہ وکذٰلک المعتدۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۰، الباب الثالث فی المحرمات)۔
- (۲) دیکھئے: الحیلۃ الناجزۃ للحلیلۃ العاجزۃ للشیخ التھانوی ص:۶۲ تا ۶۶ حکم زوجۂ مفقود، طبع دار الاشاعت۔

