لاپتاشوہرکاحکم
شوہرکیشہادتکیخبرپرعورتکادُوسرانکاحصحیحہے
سوال:۔
ہمارے گاؤں میں دو بھائی رہتے تھے، ۱۹۶۵ء کی جنگ میں ایک بھائی لڑائی پر گیا اور اس کی بیوی دُوسرے بھائی کے پاس رہ گئی، جنگ ختم ہونے کے بعد اس کے بھائی کا کوئی پتا نہ لگا اور حکومتِ پاکستان نے اس کے گھر کے پتے پر اس کی شہادت کی اطلاع دے دی۔ کچھ عرصے کے بعد دُوسرے بھائی نے اپنی بھابھی یعنی بھائی کی بیوی کے ساتھ شادی رچالی، اس طرح دونوں زندگی گزارنے لگے۔
۱۹۷۱ء کی جنگ کے بعد دُوسرا بھائی جس کا حکومت نے شہادت کا تار دیا تھا، واپس گاؤں کو آیا، لیکن گداگری کے لباس میں، کیونکہ اسے معلوم ہوگیا تھا کہ بھائی صاحب نے میری بیوی کے ساتھ شادی کی ہے۔ وہ گداگری کے لباس میں گاؤں میں پھر کر چلا گیا، اس کے بعد اس کا پتا نہیں چلا، بھائی نے بہت تلاش کیا، کہیں نہیں ملا۔ اور اَبھی پتا چلا ہے کہ وہ کراچی شہر میں ہے، تو ایسے میں شرعی حکم کیا ہے کہ اس کی بیوی جو کہ اس کے دُوسرے بھائی کے نکاح میں ہے اور اس کی اولاد جو دُوسرے بھائی سے ہوئی ہے کیا صحیح ہے؟ مطلب یہ ہے کہ نکاح ہوا ہے؟ اگر نہیں ہوا تو بچے حرامی ہیں یا حلالی؟ کیونکہ یقین کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ دُوسرا بھائی ابھی زندہ ہے اور کراچی میں ہے۔
جواب:۔
جب اس بھائی کے شہید ہونے کی اطلاع حکومت کی طرف سے آگئی تو عدّت کے بعد اس کی بیوی دوبارہ نکاح کرنے کی مجاز تھی، اس لئے وہ نکاح صحیح تھا، اور اولاد بھی جائز ہے۔ رہا یہ کہ بھائی گداگری کے لباس میں آیا تھا، یہ محض افواہی بات ہے جس کا یقین نہیں کیا جاسکتا، جب تک کسی قطعی ذریعہ سے یہ معلوم نہ ہوجائے کہ وہ شہید نہیں ہوا، ابھی تک زندہ ہے، اس وقت تک اس کی بیوی کا دُوسرا نکاح صحیح قرار دیا جائے گا، اور اگر قطعی طور پر یہ ثابت ہوجائے کہ پہلا شوہر زندہ ہے تب بھی دُوسرے نکاح سے جو بچے ہیں وہ حلالی ہیں، پہلے شوہر کو حق ہوگا کہ وہ اپنی بیوی واپس لے لے، یا اس کو طلاق دے کر فارغ کردے، اس صورت میں عدّت کے بعد دُوسرے شوہر سے دوبارہ نکاح کردیا جائے۔(۱)
- (۱) سئل عن امرأۃ لھا زوج غائب فجاء رجل إلیھا وأخبرھا بموت زوجھا ففعلت ھی وأھل البیت ما تفعل أھل المصیبۃ من إقامۃ التعزیۃ واعتدت وتزوّجت بزوج آخر ودخل بھا، ثم جاء رجل آخر وأخبرھا أن زوجھا حی وقال: أنا رأیتہ فی بلد کذا۔ کیف حال نکاحھا مع الثانی؟ وھل یحل لھا أن تقوم معہ؟ وماذا تفعل ھی وھٰذا الثانی؟ فقال: إن کانت صدقت المخبر الأول لم یمکنھا أن تصدق المخبر الثانی ولَا یبطل النکاح بینھما ولھما أن یقرا علٰی ھٰذا النکاح۔ (عالمگیری، کتاب الشھادات، الباب الثانی عشر، ج:۳ ص:۵۳۰، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔ أیضًا: حیلہ ناجزہ ص:۶۷، طبع دار الْإشاعت کراچی۔

