لاپتاشوہرکاحکم
جسعورتکاشوہرغائبہوجائےوہکیاکرے؟
سوال:۔
میری شادی دو سال پہلے ہوئی تھی، میرا شوہر بیماری کی وجہ سے ایک رات بھی میرے ساتھ نہیں گزار سکا، اور دو مہینے بعد بیماری کی حالت میں نہ جانے کہاں چلا گیا؟ جس کا آج تک کوئی پتا نہیں چلا۔ میں دو سال سے والدین کے گھر رہ رہی ہوں اور اَب وہ میری شادی کہیں دُوسری جگہ کر رہے ہیں، تو آپ برائے کرم میری اس دُوسری شادی کے بارے میں لکھیں، یعنی کیا طریقۂ کار ہونا چاہئے؟
جواب:۔
یہ تو ظاہر ہے کہ جب تک پہلے شوہر سے طلاق نہ ہو یا عدالت پہلے نکاح کے فسخ ہونے کا فیصلہ نہ کرے، دُوسری جگہ منکوحہ کا نکاح نہیں ہوسکتا۔(۱) آپ کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ آپ عدالت سے رُجوع کریں، اپنا نکاح گواہوں کے ذریعہ ثابت کریں اور پھر یہ ثابت کریں کہ آپ کا شوہر لاپتہ ہے۔ عدالت چار سال تک اپنے ذرائع سے اس کی تلاش کرائے، نہ ملنے کی صورت میں فسخِ نکاح کا فیصلہ دے دے (اور اگر عدالت حالات کے پیشِ نظر اس سے کم مدّت کا تعین کرے تو اس کی بھی گنجائش ہے) فسخِ نکاح کے فیصلے کے بعد آپ شوہر کی وفات کی عدّت (چار مہینے دس دن) گزاریں، عدّت سے فارغ ہونے کے بعد دُوسری جگہ عقد کرسکتی ہیں۔(۲)
- (۱) اما نکاح منکوحۃ الغیر (إلٰی قولہ) لم یقل أحد بجوازہ فلم ینعقد أصلًا۔ (رد المحتار، مطلب فی النکاح الفاسد ج:۳ ص:۱۳۲)۔ أیضًا: لَا یجوز للرجل أن یتزوّج زوجۃ غیرہ وکذٰلک المعتدۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۰)۔
- (۲) دیکھئے: حیلہ ناجزہ للتھانوی ص:۶۲۔

