لاپتاشوہرکاحکم
کیاگمشدہشوہرکیبیویدُوسریشادیکرسکتیہے؟
سوال:۔
میری ایک رشتہ دار ہیں، بہت عرصہ پہلے ان کی شادی ہوئی، اولاد میں چار بچے ہیں، کوئی دس سال پہلے ان کے شوہر گھر سے چلے گئے اور جاکر دُوسری شادی رچالی۔ تاہم وہ ایک سال تک اپنی اس پہلی بیوی کے پاس بھی آتے رہے لیکن پھر وہ اچانک اپنی دُوسری بیوی کے ساتھ کہیں غائب ہوگئے، جس دفتر میں وہ ملازمت کرتے تھے، وہاں سے ملازمت بھی چھوڑ دی۔ انہیں غائب ہوئے نو سال سے اُوپر ہوگئے ہیں، اب وہ کہاں غائب ہیں؟ کسی کو کچھ پتا نہیں۔ یہ تک معلوم نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں؟ اب ہم چاہتے ہیں یہ محترمہ دُوسری شادی کرلیں، کیا شرعاً ایسا جائز ہے؟
جواب:۔
اس مسئلہ میں مالکی مسلک پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ عورت عدالت میں دعویٰ کرے، اوّلاً شہادت سے ثابت کرے کہ اس کا نکاح فلاں شخص سے ہے، پھر شہادت سے یہ ثابت کرے کہ وہ اتنے عرصے سے مفقود الخبر ہے، اور اس نے اس عورت کے نان و نفقہ کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ عدالت اس کی شہادتوں کی سماعت کے بعد اسے چار سال انتظار کرنے کا حکم دے اور اپنے ذرائع سے اس کو تلاش کرنے کی کوشش کرے اور چار سال کے عرصے میں اگر شوہر نہ آئے تو عدالت اس کے فسخِ نکاح کا فیصلہ کرے۔ اس فیصلے کے بعد عورت عدّت گزارے، عدّت کے بعد وہ دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
اور اگر عدالت محسوس کرے کہ مزید چار سال کے انتظار کی ضرورت نہیں تو عورت کی شہادتوں کے بعد وہ فوری طور پر فسخِ نکاح کا فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔ تاہم عدالت کے سامنے شہادتیں پیش کرنا اور عدالت کے فیصلے کے بعد عدّت گزارنا شرطِ لازم ہے، اس کے بغیر دُوسری جگہ عقد نہیں ہوسکتا۔(۱)
(کما فی المنتقٰی للباجی المالکی ج:۵ ص:۲۰۳ کتاب الأقضیۃ) (فرع) وأما النکاح ففی العتبۃ عن سحنون، قال جل أصحابنا یقولون فی النکاح، إذا استنشر خبرہ فی الجیران ان فلانًا تزوج فلانۃ وسمع الزفاف فلہ ان یشھد أن فلانۃ زوجۃ فلان ۔۔۔إلخ)۔
اس کے بعد گواہوں سے اس کا مفقود ولاپتا ہونا ثابت کرے، بعد ازاں قاضی خود بھی مفقود کی تفتیش وتلاش کرے، اور جب پتا ملنے سے مایوسی ہوجائے تو عورت کو چار سال تک مزید اِنتظار کا حکم کرے، پھر اگر ان چار سال کے اندر بھی مفقود کا پتا نہ چلے تو مفقود کو اس چار سال کی مدّت ختم ہونے پر مُردہ تصوّر کیا جاوے گا، اور نیز ان چار سال کے ختم ہونے کے بعد چار ماہ دس دن عدّتِ وفات گزار کر عورت کو دُوسری جگہ نکاح کرنے کا اِختیار ہوگا۔ (الحیلۃ الناجزۃ للتھانوی ص:۶۲، حکم زوجۂ مفقود، طبع دار الاشاعت)۔
وفی فتویٰ العلامۃ سعید بن صدیق الفلاتی مفتی المالکیۃ بالمدینۃ المنوّرۃ زادھا اللہ شرفًا: فالمفقود فی بلاد الْإسلام فی غیر مجاعۃ ولَا وباء إن لم ترض زوجتہ بالصبر إلٰی قدومہ فلھا أن ترفع أمرھا إلی الخلیفۃ أو القاضی أو من یقوم مقامھما فی عدمھما لیتفحّصُوا عن حال زوجھا بعد ان تثبت الزوجیۃ وغیبۃ الزوج والبقاء فی العصمۃ إلی الآن وإذا ثبت ذالک عندھم کتبوا کتابًا مشتملًا۔۔۔ فإذا انتھی الکشف ورجع إلیہ الرسول وأخبرہ بعدم وقوفہ علٰی خبرہ، فالواجب أن یضرب لہ أجل أربع سنین للحر وسنتان للعبد وھٰذا التحدید محض تعبد بفعل عمر بن الخطاب وأجمع علیہ الصحابۃ۔۔۔ وإلٰی جمیع ما سبق أشار خلیل بقولہ ۔۔۔إلخ۔ (الحیلۃ الناجزۃ ص:۱۲۰، ۱۲۱، الجواب من العلامۃ سعید، طبع دار الْإشاعت کراچی)۔
وفی فتویٰ العلامۃ الفاہاشم رحمہ اللہ مفتی المالکیۃ بالمدینۃ المنوّرۃ: أما السؤال الرابع۔۔۔ فجوابہ ما فی شرح الدردیر وعبدالباقی والخرشی وغیرھا، ان المفقود انما یؤجل لِامرأہ ما دامت نفقتھا وإلّا طلقت بعدم النفقۃ۔۔۔ اما السؤال الخامس۔۔۔ فجوابہ۔۔۔ إن ضرب الأجل لِامرأۃ المفقود انما ھو إذا دامت نفقتھا من مالہ ولم تخش العنت والزنا وإلّا فلھا التطلیق بعدم النفقۃ أو لخوف الزنا۔ (الحیلۃ الناجزۃ ص:۱۲۳، ۱۲۴)۔
- (۱) زوجۂ مفقود کے لئے مالکیہ کے نزدیک مفقود کی زوجیت سے علیحدہ ہونے کی دارُالاسلام میں تو یہ صورت ہے کہ عورت قاضی کی عدالت میں مرافعہ کرے اور بذریعہ شہادتِ شرعیہ یہ ثابت کرے کہ میرا نکاح فلاں شخص سے ہوا تھا (اگر نکاح کے عینی گواہ موجود نہ ہوں تو اس معاملے میں شہادت بالتسامع بھی کافی ہے، یعنی شہرتِ عام کی بنا پر بھی شہادت دی جاسکتی ہے،

