بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دُوسری‌شادی

بیوی‌اگر‌حقوقِ‌زوجیت‌ادا‌نہ‌کرے‌تو‌دُوسری‌شادی‌کی‌اِجازت‌ہے

سوال:۔

شرعی نقطۂ نظر سے آدمی کن حالات میں دُوسری شادی کرسکتا ہے؟ اگر بیوی کی مسلسل تین سال سے خاموشی ہو اور بنی آدم کو عورت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو کیا وہ بیوی سے اِجازت یا مرضی لئے بغیر دُوسری شادی کرسکتا ہے؟ اگر وہ اپنی ضرورت کو ملحوظ رکھتے ہوئے بجائے گناہ کے گڑھے میں گرنے کے دُوسرا نکاح کرلے اور پہلی بیوی سے اِجازت بھی نہیں لے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ممکن ہو تو یہ بھی بتلادیں کہ اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟ شوہر بیوی کو اپنی ضرورت کے لئے بلوائے اور وہ نہ آئے، اس پر بیوی کے لئے کیا اَحکام ہیں؟ اور کیا شوہر کو ایسی صورت میں بغیر بیوی کی اِجازت کے دُوسرا نکاح کرنے کا حق حاصل ہے؟

جواب:۔

شرعاً دُوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی اِجازت لینا ضروری نہیں، اور اگر عدالت سے منظوری لے لی جائے کہ میری بیوی تین سال سے حقوقِ زوجیت ادا نہیں کرتی، لہٰذا مجھے دُوسری شادی کی اِجازت دی جائے تو یہ قانون کے بھی خلاف نہ ہوگا، اس حالت میں دُوسری شادی ضرور کرلینی چاہئے۔